سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 5 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 5

سبیل الرشاد جلد دوم کرنی چاہئے۔اس کے بعد سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کی تحریک 5 سال رواں میں میں نے دو بڑی تحریکیں جماعت کے سامنے رکھی ہیں۔ان میں سے ایک قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کی تحریک ہے۔جب تک ہم جماعت کے ہر فرد کو قرآن کریم کے مطالب سے متعارف نہیں کروا دیتے ہم قرآن کریم کی ساری برکات سے بحیثیت جماعت کس طرح حصہ لے سکتے ہیں؟ کچھ جماعتوں نے اس کی طرف خاص توجہ دی ہے اور اس کے نتیجہ میں اس تحریک کے وہاں بڑے اچھے نتائج نکل رہے ہیں۔بعض جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے ایک لمبے عرصہ تک اس کی طرف توجہ دی اور پھر سستی اختیار کر لی۔بعض جماعتیں ایسی ہیں کہ جن کا دل تو چاہتا ہے لیکن وہاں کوئی انتظام نہیں اور آخر میں شاید دو چار جماعتیں ایسی بھی ہوں جن کی توجہ ابھی تک اس طرف نہیں ہوئی اور ان کا دل بھی نہیں چاہتا۔سب جماعتوں کو سنبھالنا ہمارا فرض ہے اگر آپ خود بحیثیت جماعت قرآن کریم کی وہ قدرنہ کریں جو قد رقرآن کریم کی کرنی چاہئے تو اللہ تعالیٰ آپ سے بحیثیت جماعت پوری طرح خوش کیسے ہو سکتا ہے۔جن جماعتوں میں قرآن کریم پڑھانے کا انتظام نہیں یا جن جماعتوں کی اس طرف توجہ ہی نہیں ان کے لئے بہر حال باہر سے انتظام کرنا پڑے گا اور باہر سے انتظام دوطریق پر کیا جا سکتا ہے۔ایک یہ کہ با تنخواہ معلم وہاں رکھیں اور دوسرے یہ کہ وقف عارضی کے وفود یکے بعد دیگرے بغیر وقفہ کے وہاں پہنچتے رہیں۔ایک جماعت میں ہم نے وقف عارضی کا ایک وفد بھیجا۔میں سمجھتا ہوں وہ جماعت سمجھدار تھی انہوں نے اس خیال سے کہ اس وفد کے بعد دوسرا وفد آئے گا پھر تیسرا وفد آئے گا۔انہوں نے اپنے بچے جو ایک غیر معلم کے پاس پڑھ رہے تھے اٹھالئے اور انہیں وفد کے سپر د کر دیا۔پندرہ دن کے بعد وہ وفد واپس آ گیا اور چونکہ ہمارے پاس زیادہ آدمی نہیں تھے اس لئے ہم وہاں دوسرا وفد نہ بھجوا سکے۔ایک مہینہ کے بعد جب ہمارا دوسرا وفد وہاں پہنچا تو انہوں نے کہا اب ہم اپنے بچے آپ سے نہیں پڑھوائیں گے۔پہلے ہم نے اپنے بچے فلاں مولوی صاحب کے پاس سے اٹھوا لئے تھے اور اب بڑی مشکل سے بڑی منتیں کر کے اور بڑی خوشامد کے بعد ہم نے ان کو اس بات پر تیار کیا ہے کہ وہ ہمارے بچوں کو پڑھا ئیں۔یا تو ایک مستقل سلسلہ وفود کا ہمارے پاس آئے یا ایک مستقل معلم ہمیں دیا جائے تب ہم اپنے بچوں کو آپ سے پڑھوا سکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں ایک خواہش اور جذ بہ ضرور ہے کہ ان کے