سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 4 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 4

4 سبیل الرشاد جلد دوم ہیں اور کتب اور رسالوں کا بھی جو ہم شائع کر چکے ہیں یا شائع کر رہے ہیں بڑی کثرت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔اگر اس وقت ہم نے ان کی روحانی پیاس کو سیر نہ کیا تو جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ اگر جسمانی پیاس کسی شخص کو ہو اور اسے پانی نہ ملے تو کچھ دیر کے بعد وہ پیاس خود بخود بجھ جاتی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کی پیاس بجھ جائے اور ان کی توجہ اسلام سے پھر ہٹ جائے۔پس یہ وقت ہے کہ ہم ان کی پیاس کو سیر کرنے کی کوشش کریں۔قرآن کریم کے جو تراجم اور تفاسیر مختلف زبانوں میں کی گئی ہیں وہ بھی ان زبانوں کے جاننے والوں کے ہاتھ میں دیں اور وہ ممالک جن کی زبانوں میں ابھی تک قرآن کریم کے تراجم اور تفاسیر نہیں ہوئیں ان زبانوں میں بھی زیادہ سے زیادہ تراجم اور تفاسیر شائع کریں۔اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہوں گے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس دعوی میں بچے نہیں تھے کہ تمام ادیانِ عالم پر اسلام کو غالب کرنے کے لئے آپ کی بعثت ہوئی ہے اور آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر انسان کے دل میں گاڑ دے۔پس اس کی طرف بہت جلد توجہ کرنی چاہئے۔اس وقت بے شک آپ پہلی قسط ہی وعدوں کی لکھوائیں لیکن اس وقت کم از کم بڑی بڑی جماعتیں ضرور اپنے وعدے لکھوا دیں۔حضور نے اس دوران فرمایا۔اگر احمدی زمیندار فصل بونے سے پہلے یہ دعا کریں کہ اے خدا! اگر ہماری فصل پچھلے سال سے زیادہ ہو جائے۔مثلاً گندم اگر پچھلے سال سے زیادہ ہو تو زائد گندم میں سے نصف تیری راہ میں خرچ کریں گے تو اس سے ان کی فصلوں میں بڑی برکت پیدا ہو جائے گی۔اسی طرح ربوہ کی جماعت کی طرف سے وعدہ پیش ہونے پر فرمایا : ربوہ کی جماعت نے گزشتہ سال سے پانچ ہزار روپیہ زیادہ کا وعدہ کیا ہے۔گزشتہ سال ان کا وعدہ ۴۸ ہزار روپیہ کا تھا اور اس سال ان کا وعدہ ۵۳ ہزار روپیہ کا ہے۔اس وعدہ میں وہ رقم شامل نہیں جو حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے آئی تھی۔یعنی ساڑھے بارہ ہزار روپے جو حضرت مصلح موعود ادا فرمایا کرتے تھے اور اب بھی انشاء اللہ ملا کریں گے۔کیمبل پور (اٹک) کی جماعت کے وعدہ کے پیش ہونے پر فرمایا : کیمبل پور (اٹک) اور میانوالی میں جماعتوں کی تعداد اور افراد کی تعداد کو بڑھانے کی کوشش نوٹ : حضور کے اس ارشاد پرمخلصین جماعت نے انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی اپنے وعدے پیش کئے۔ان وعدوں کی میزان اللہ تعالیٰ کے فضل سے پانچ لاکھ دس ہزار روپیہ تک پہنچ گئی۔الحمد للہ