سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 193

193 سبیل الرشاد جلد دوم کوشش کرنی چاہئے کہ ہر سال خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے اجتماعات میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے نہ یہ کہ اس میں کمی ہو۔اگر ہر میدان میں ہمارا قدم آگے کی طرف نہیں اُٹھے گا۔تو پھر ہمیں خدائی برکات کیسے حاصل ہوں گی۔حضور نے فرمایا کہ بعض اوقات چند ایک کی غلطی کی وجہ سے دوسروں کو بھی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔پچھلے سالوں میں خدام الاحمدیہ ایک بڑے نازک دور سے گزری ہے یہ دور ۱۹۶۶ء میں ختم ہوا۔اُس وقت اجتماع میں شامل ہونے والی مجالس کی تعداد گرتے گرتے صرف ۱۰۱ رہ گئی تھی۔سو گویا خدام الاحمدیہ بجائے ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے پیچھے کی طرف جارہی تھی۔اللہ تعالیٰ تو جماعت کو ترقی دے رہا تھا لیکن اس کا ایک عضو ننزل کی طرف جا رہا تھا۔خدا نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جسمانی رشتہ کی ضرورت نہیں ، روحانی رشتہ مضبوط ہونا چاہئے۔چنانچہ بہت دعاؤں کے ساتھ میں نے ایک سادہ، بے نفس اور عشق کا جذبہ رکھنے والے نوجوان کو جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جسمانی تو نہیں روحانی تعلق مضبوط تھا خدام الاحمدیہ کا صدر مقرر کیا۔خدا تعالیٰ نے اس مخلص نو جوان کو کام کرنے کی توفیق دی چنانچہ امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدام کے اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ۱۰۱ سے بڑھ کر ا ۴۰ تک پہنچ گئی۔خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ایسا حسین جلوہ دکھایا کہ دل اس کی حمد سے لبریز ہو گیا۔پھر مجھے فکر ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے خدام الاحمدیہ پر تو اتنا بڑا فضل کیا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ انصار اللہ والے پیچھے رہ جائیں چنانچہ میں نے انہیں بھی توجہ دلائی کہ وہ آگے قدم بڑھانے کی کوشش کریں۔اب تازہ رپورٹ یہ ہے کہ امسال خدام کی ۴۰۱ مجالس کے بالمقابل انصار اللہ کے اجتماع میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۴۶۵ مجالس انصار اللہ نے حصہ لیا ہے۔اس طرح مجالس انصار اللہ نے مسابقت کی رُوح سے کام لیا ہے۔آئندہ خدام کو چاہئے کہ وہ ۴۶۵ کی تعداد سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔اُدھر انصار اللہ کو چاہئے کہ وہ خدام سے آگے بڑھیں اور اس طرح روح مسابقت سے کام لیتے ہوئے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں آگے ہی آگے قدم بڑھاتے چلے جائیں۔علاوہ ازیں حضور نے آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت کے ضمن میں انصار اللہ کوان کی نہایت اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اگر دیکھا جائے تو خدام کی تربیت اس لحاظ سے انصار کے ذمہ ہے کہ اکثر و بیشتر خدام انصار کے اپنے بیٹے ہیں اور اسلام نے ہر باپ کو اپنے بیٹے بیٹیوں کی تربیت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔بعض باپ یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ اولاد کی تربیت کے وہ خود ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ یہ