سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 2
2 سبیل الرشاد جلد دوم ہوں۔انصار اللہ کے ذمہ دو قسم کے کام ہیں۔ایک کام بحیثیت افراد جماعت - جماعت کی ذمہ داریوں کو دوسروں کی نسبت بہتر رنگ میں ادا کرنے کی ذمہ داری ہے اور دوسرا کام اس تنظیم کے لحاظ سے بحیثیت انصار - انصار اللہ کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی ذمہ داری ہے۔بحیثیت افراد جماعت جو ہماری ذمہ داریاں ہیں ان میں سے کچھ صدرانجمن احمدیہ کی تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں، کچھ تحریک جدید کی تنظیم سے تعلق رکھنے والی ہیں اور کچھ کا واسطہ وقف جدید کے ساتھ ہے۔تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھیں تحریک جدید کے سال نو کا اعلان میں نے آج خطبہ جمعہ میں کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھے تو اس سے بہت زیادہ قربانی (مالی بھی اور جانی بھی ) پیش کرے جتنی کہ وہ اس وقت پیش کر رہی ہے۔۱۹۳۴ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کا اجراء کیا تو حضور نے شروع میں فرمایا۔میں ایک سکیم جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اسوقت جماعت نہایت نازک دور میں سے گزر رہی تھی۔تمام گروہ اور فرقے خواہ ان کا تعلق اسلام سے تھا یا دیگر مذاہب سے وہ مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے یا سیاسی تنظیموں سے انکا تعلق تھا، اکٹھے ہو کر جماعت کے خلاف برسر پیکار تھے اور ان میں سے بعض تو یہ دعوی کر رہے تھے کہ ہم اس چھوٹی سی جماعت کو کلیۂ نیست و نابود کر دیں گے۔نیست و نابود تو دنیا سے وہی جماعت ہوا کرتی ہے جسے نیست و نابود کرنے کا آسمان پر اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے۔وہ جماعتیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے قائم کرتا ہے وہ اپنی قدرتوں سے ان کی حفاظت بھی کیا کرتا ہے۔غرض نیست و نابود ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن جماعت کو ان فتنوں سے محفوظ رکھنے اور ان فتنوں کے نتیجہ میں جو دکھ اور تکلیف جماعت کو پہنچ سکتی تھی ان سے بچانے کیلئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتیں سوچیں اور انہیں جماعت کے سامنے رکھا۔اُس وقت دنیا میں ہندوستان کے علاوہ کم ہی ایسے مقامات تھے جہاں جماعت کا پاؤں مضبوطی سے قائم ہو چکا تھا لیکن اس سکیم کے نتیجہ میں ان چند سالوں میں ( قریباً ۳۲ سال اس سکیم کے اجراء کو ہوئے ہیں اور قوموں کی زندگی میں یہ کوئی لمبا عرصہ نہیں سمجھا جاتا ) اللہ تعالیٰ نے درجنوں ملکوں میں جماعت کو بڑی طاقت وقوت اور اثر و رسوخ عطا کیا ہے۔اور جیسا کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے جو پھل ہم نے آج تک اس تحریک سے چکھے ہیں اور جنہیں ہم کھا رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کی لذت اپنے اندر لئے ہوئے ہیں کہ وہ کسی دنیوی درخت کے پھل نہیں ہو سکتے۔وہ جنت ہی کے درخت تھے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین پر بھیجے اور