سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 157

سبیل الرشاد جلد دوم 157 کے جلوے دیکھو گے۔نیک اعمال کا بدلہ دینا اس کے اصل معنی ہیں اور اسی کے اندر مغفرت اور نصرت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے یعنی اعمال میں جو نقص رہ جائے رحیم خدا اپنے فضل سے اس کو ڈھانپ لیتا ہے۔اگر کوشش کامیاب ہوتی نظر نہ آئے ، وہ نامکمل رہتی نظر آئے تو اللہ تعالیٰ اس کو کامیاب کر دے گا۔مثلاً اگر کسی چیز کے حصول کے لئے سو 100 اکائیاں کوشش کی ضرورت تھی اور انسان نے کوشش کی ، بڑا مجاہدہ کیا اور اٹھانوے یعنی دو کم سوا کائیاں اس نے پوری کر دیں اور اس کوشش کے باوجود اسے کمی نظر آ رہی ہے کیونکہ دوا کائیوں کی کمی ہے۔تب خدائے رحیم جلوہ دکھاتا ہے اور اس دو کی کمی کو پورا کر دیتا ہے تا کہ تدبیر اپنے کمال کو پہنچ جائے۔یہ سب باتیں رحیم کے معنی کے اندر پائی جاتی ہیں۔یہی چیز ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتی ہے۔بنی نوع انسان کی کوششوں میں جو غفلت اور کی اور نقص اور داغ اور بُرائی نظر آ سکتی تھی اس کے متعلق آپ نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ لے کر انسان کو کہا لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا یعنی اگر تم میری اتباع کرو گے تو یہ داغ چھپائے جائیں گے وہ دنیا کو نظر نہیں آئیں گے تمہیں بھی نظر نہیں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی یہی ظاہر کرے گا ، گو اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں لیکن چونکہ وہ رحیمیت کا جلوہ اس طرح ظاہر کرتا ہے اس لئے وہ بھی یہی ظاہر کرے گا کہ گویا اس کی نگاہ سے بھی تمہارا یہ داغ چھپا ہوا ہے اور تمہارے ساتھ بڑا پیاراور محبت کا سلوک کرے گا۔یہ جلوہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں بھی نظر آتا ہے اور آپ کا جو سلوک صحابہ کے ساتھ تھا اس میں بھی یہ جلوہ نظر آتا ہے۔رحیمیت کے جو جلوے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے اس وقت دیکھے اور پھر دیکھنے والوں نے آج تک دیکھے اور قیامت تک دیکھتے چلے جائیں گے ان کے نتیجہ میں جو نعمت عظمی دیکھنے والوں نے حاصل کی وہ ثبات قدم تھا۔جس شخص کو یہ یقین ہو کہ میرے اعمال ضائع نہیں ہوں گے ، جس کو یہ یقین ہو کہ اگر کوئی خامی رہ گئی ، اگر کوئی نقص رہ گیا ، اگر میری کوشش پر کوئی داغ پڑ گیا تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اگر میری نیت میں فتور نہ ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میں نے کامل اتباع کی تو یہ نقص دور کر دیا جائے گا، یہ داغ چھپا دیا جائے گا۔اور جس شخص کو یہ یقین ہو کہ بے شک میں کوشش تو کروں گا لیکن آخرمیں انسان ہوں۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ میں اپنی کوشش اور تدبیر کو اس کمال تک نہ پہنچا سکوں۔جس کمال تک پہنچنے کے بعد نتیجہ نکلا کرتاہے تو اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور میری اس کمی کو دور کر دے گا۔ہم میں سے اکثر زمیندار ہیں اور زمینداروں کے لئے اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ ایک شخص گندم اُگانے کے لئے بڑی سوره زمر آیت ۵۴