سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 156
156 سبیل الرشاد جلد دوم اسے پہچان نہیں سکتی۔اس کی معرفت تامہ حاصل نہیں کر سکتی۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں وہاں تک پہنچا دیتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے مظہر اتم تھے اور قرآن کریم نے اس صفت میں آپ کے مظہر اتم ہونے کو بڑے عجیب پیرا یہ میں اس طرح بیان کیا ہے کہ لَا أَسْلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا میں تم پر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کتنا بڑا احسان کر رہا ہوں لیکن یہ احسان اجر کے طور پر نہیں کہ تم نے کوئی کام کیا تھا اور میں اس کا بدلہ تمہیں دے رہا ہوں۔میرے سارے کام، میرے سارے احسان ، میرے سارے تعلقات، میری ساری ہمدردیاں اور غمخواریاں اور میرا دکھوں کو دور کرنا ، میرا حقوق کو قائم کرنا اور حقوق دینا اور دلوانا اجر کے طور پر نہیں یعنی تم نے کوئی کام نہیں کیا تھا کہ میں اس کے بدلہ میں تم سے یہ سلوک کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کے مظہر اتم تھے اور اس صفت رحمان کے مظہر اتم ہونے کا نتیجہ تھا (میں نے بتایا تھا کہ بہت ساری نعمتیں ہیں جو تفصیلی طور پر دی گئی ہیں لیکن اب جو میں بیان کرنے لگا ہوں یہ اصولی طور پر ہے ) کہ اصولی طور پر صفت رحمانیت کے مظہر ہونے کی حیثیت میں دو ایسی عظیم نعمتیں آپ نے انسان کو عطا کی ہیں کہ ان کی کوئی قیمت اس مادی دنیا میں نہیں ہے ایک قرآن کریم جیسی عظیم نعمت اور دوسرے اپنے اسوہ جیسا عظیم نمونہ۔یہ دنیا کے سامنے رکھا۔کیا کام کیا تھا دنیا نے کہ اس کے اجر کے طور پر یہ نعمتیں اسے ماتیں۔آپ نے اتنی عظیم تعلیم اور اتنا حسین نمونہ دنیا کو دیا کہ اکثر دنیا تو اسے سمجھتی نہیں لیکن جو لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی حیران و پریشان رہتے ہیں کہ کیا اتنے اعلیٰ درجہ کے اخلاق دنیا میں ظاہر ہو سکتے تھے جو اس وقت ظاہر ہوئے جب خدائے رحمان نے اپنی رحمانیت کے جلوے اور اس کا عرفان اپنے ایک محبوب بندے پر کیا اور اس کے نتیجہ میں اسے اپنی اس صفت کا مظہر اتم بنایا اور آپ کی روحانی قوتوں نے اس قدرنشو ونما میں کمال حاصل کیا کہ آپ قرآن کریم کی تعلیم کے وصول کرنے کے متحمل ہو گئے اور آپ اس قابل ہو گئے کہ اس کے مطابق آپ اپنی زندگی کو ڈھال کر ایک بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔پس آپ کی رحمانیت کے نتیجہ میں یعنی اس صفت الہیہ کے مظہر اتم ہونے کے نتیجہ میں ہم نے اللہ تعالیٰ سے قرآن جیسی نعمت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ جیسا حسین جلوہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ان اُم الصفات میں سے تیسری صفت رحیم کی صفت ہے جس کا مطلب جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ہے کہ اعمال کو ضیاع سے بچانے والا اور پہلے یہ تسلی دینے والا کہ جب تم عمل کرو گے تو تم میری رحیمیت سورة انعام آیت ۹۱ سورة انعام آیت ۹۱