سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 155
سبیل الرشاد جلد دوم 155 ربوبیت کر دی تھی۔یہ تو آپ کے فیضان کی ایک ظاہری مثال ہے۔ویسے روحانی مثال تو ساری دنیا کے لوگ ہیں جیسا کہ میں نے پہلی مثال میں بتایا ہے لیکن تاریخ اس پر شاہد ہے کہ کس طرح آپ نے صحابہ کرام کو وحشی انسانوں سے ایک انمول ہیرا بنا دیا پھر ان کو مختلف پہلوؤں سے کٹ (Cut) کیا جیسا کہ ہیرے کو کیا جاتا ہے۔اور پھر ان کو اس طرح پالش کیا کہ جس طرف سے بھی انسان کی نگاہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان تربیت یافتہ لوگوں پر پڑی، اس کی آنکھیں چندھیا گئیں کیونکہ ربوبیت کے نتیجہ میں ان میں سے ایک عظیم روشنی نکل رہی تھی۔خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات اور روحانی تا شیریں اور آپ کی ہدایت و تبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لئے قرار پائی اور اس کا اثر صحابہ میں بڑے نمایاں طور پر ہمیں نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی اُم الصفات میں سے دوسری صفت رحمان کو قرار دیا گیا تھا یعنی اس نے بغیر کسی عمل کے اور بغیر کسی ظاہری استحقاق کے انسان کو اپنی نعماء دیں ، حق تو کسی کا نہیں بنتا لیکن اللہ تعالیٰ نے خود ہی رحم کر کے یہ کہا ہے کہ اگر تم یہ کام کرو گے تو میں تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کروں گا جیسا کہ گویا تمہارا یہ حق تھا۔پس انسان کا کوئی حق تو نہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے کہا کہ میں تم سے سلوک اسی طرح کروں گا کہ جیسے تم نے حق کو قائم کر لیا ہو۔لیکن استحقاق حق سے قبل بے شمار نعماء کی ضرورت تھی ورنہ انسان عمل ہی نہ کر سکتا۔اگر یہ سورج نہ ہوتا۔سورج اتنے فاصلہ پر نہ ہوتا جتنے فاصلہ پر وہ اب ہے۔اگر یہ زمین نہ ہوتی۔اگر یہ زمین اس زاویہ پر اپنے محور کے گرد گھوم نہ رہی ہوتی اور اس رفتار سے سورج کے گرد نہ چل رہی ہوتی جس رفتار سے وہ اب چل رہی ہے۔اگر چاند نہ ہوتا اور چاند کا زمین سے اتنا فاصلہ نہ ہوتا جتنا فاصلہ اس کا اب ہے۔پھر چاند کی وہ روشنی نہ ہوتی جو ہمیں نظر آتی ہے۔وہ کبھی بڑھ رہی ہے اور کبھی کم ہو رہی ہے۔پھر ایک دو سطح کی راتیں آتی ہیں۔ان میں یہ روشنی بالکل غائب ہو جاتی ہے۔تو۔اس دنیا میں اپنے قومی کی نشو و نما کرنے کے امکان کا سوال نہیں بلکہ اس زمین پر زندگی ہی نہ رہتی۔پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی پیدائش سے قبل یہ ساری نعمتیں دیں تو اجر کے طور پر نہیں۔بلکہ عمل سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے جوش میں اپنی جاندار مخلوق خصوصاً انسان کے لئے وہ نعمتیں بنائی ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنے اپنے دائرہ میں (حیوان اپنے دائرہ میں اور انسان بحیثیت نوع اپنے دائرہ میں ) جسمانی اور دوسری ترقیات کر سکتا ہے اور روحانی ترقی کرتے کرتے اس بلند مقام پر پہنچ سکتا ہے کہ اس انسان کی عقل بھی وہاں پہنچنے کے بعد ششدر و حیران رہ جاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ پر کتنا فضل کیا تھا۔ہماری عقل اس جلوہ کو دیکھنے سے پہلے اس جلو ہ کو Grasp نہیں کر سکتی