سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 154

154 سبیل الرشاد جلد دوم ہے۔ہم غور کریں اور صحیح فکر اور تدبر کے نتیجہ میں معلوم کریں کہ مثلاً آج امریکہ کے حبشیوں کے یہ مسائل ہیں جب تک یہ حل نہ ہوں انہیں ان کے حقوق نہیں ملیں گے اور پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کے اُسوہ کو مخاطب کریں۔آپ کی روحانیت کو ہم مخاطب کریں۔آپ کے اس بلند مقام کو مخاطب کریں کہ اے ہمارے محبوب آقا تجھے خدا نے ہر مقام اور ہر زمانہ کے لئے ربوبیت عالمین کا ایک اسوہ بنا کر بھیجا تھا۔اب اس زمانہ میں ، اس ملک میں اور اس قوم میں اس قسم کی ربوبیت کی ضرورت ہے اور وہ مل نہیں رہی تو آپ کی روحانیت ہمیں بتائے گی کہ میری نگاہ اس وقت بھی اپنے ان غلاموں پر پڑی تھی۔میں نے بیان کیا تھا کہ قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا کی ایک تفسیر یہی ہے کہ جب تک تعلق غلامی نہ ہو اللہ تعالیٰ کا فیض حاصل نہیں ہو سکتا تو اسی معنی میں میں لے رہا ہوں۔کہ ان غلاموں پر جو تیرہ چودہ سوسال کے بعد پیدا ہوئے اور مصیبتوں میں گرفتار ہوئے اس وقت بھی آپ کی نگاہ روحانی طور پر ان پر پڑی تھی اور آپ نے ان کی صحیح ربوبیت کا انتظام اپنی تعلیم میں کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ میری تعلیم کا ایک حصہ ہے اگر میری تعلیم کے اس حصہ پر عمل کیا جائے تو ان کی تکالیف دور ہو جائیں گی ان کی اُلجھنیں سلجھ جائیں گی ان کے حقوق ان کو مل جائیں گے۔تو آج کے زمانہ میں امریکہ میں بسنے والے ایا اور تجینز (Aborigines) اور حبشیوں پر بھی اس انسانِ کامل کی نگاہ پڑی جس کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین کر کے ربوبیت تامہ کا مظہر اتم بنایا تھا۔ہر ملک، ہر گوشہ اور ہر زمانہ پر اس انسانِ کامل کی روحانی نگاہ پڑی۔اور ان کے حقوق کو قائم کرنے اور ان کی ادائیگی کے سامان پیدا کرنے کے لئے تعلیم دی پھر ہمیں یہ حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ آج دوسری طرف کیوں جاتے ہیں جب کہ وہ مسلمان کہلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اس صفت ربوبیت عالمین کے مظہر اتم ہیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ کی ربوبیت زمان و مکان سے بالا ہو کر ہر خطہ اور ہر وقت کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ربوبیت عالمین ( جسے قرآن کریم نے رحمۃ للعالمین کے نام سے پکارا ہے ) نے بھی قیامت تک کے لئے انسان کی ساری ضرورتوں کو پورا کرنے اور سارے حقوق کی ادائیگی کے سامان پیدا کرنے کے ذرائع مہیا کر دیئے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اللہ تعالیٰ کی اس ام الصفات میں سے پہلی صفت کے بھی مظہر اتم نظر آتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں۔مثال کے طور پر ہم صحابہ کو لیتے ہیں۔آپ نے ہر لحاظ سے، ہر زاویہ سے اور ہر پہلو سے صحابہ کرام کی کامل اور مکمل سورہ زمر آیت ۵۴