سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 141
سبیل الرشاد جلد دوم 141 اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑنے لگیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر اتاری اور آپ پر سایہ کیا۔تب ان نئے آنے والوں نے سمجھا کہ اس بے تکلف مجلس میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کون تھے۔ایک آپ کی عادت یہ بھی تھی اور یہ بھی بے تکلف دوستانہ تعلقات پر مبنی ہے۔کسی سے ملنے کے وقت ہمیشہ پہلے خود سلام اور مصافحہ فرماتے۔کوئی شخص جھک کر آپ کے کان میں کچھ بات کہتا تو اس وقت تک اس کی طرف سے رخ نہ پھیر تے جب تک وہ خود منہ نہ ہٹالے۔مصافحہ میں بھی یہی معمول تھا یعنی کسی سے ہاتھ ملاتے تو جب تک وہ خود نہ چھوڑ دے اُس کا ہاتھ نہ چھوڑتے۔بہت سے مواقع پر دینی خدمات جس طرح ہم وقار عمل مناتے ہیں صحابہ کرام کو بھی کرنی پڑتی تھیں وہ بھی ایک بے تکلف مجلس ہوا کرتی تھی مدینہ میں جب آپ تشریف لائے تو سب سے پہلے وقار عمل مسجد نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں کئے گئے اس مسجد کی تعمیر میں دیگر صحابہ (اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہمیشہ انہیں حاصل رہے ) کی طرح خود حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک ہوتے تھے۔اپنے دست مبارک سے اینٹیں اٹھا اٹھا کر لاتے تھے۔صحابہ عرض کرتے تھے کہ ہماری جانیں قربان آپ کیوں زحمت فرماتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے ان کا شکریہ ادا کر دیتے لیکن اپنے کام میں لگے رہتے۔ایک سفر پیش آیا۔آپ اور آپ کے صحابہ سفر پر گئے۔کھانا پکانے کا وقت ہو گیا۔سامان ساتھ تھا۔گو بعض دفعہ کھجوروں پر بھی گزارہ کر لیا جاتا تھا لیکن یہاں ایسا موقع نہیں تھا۔چنانچہ کھانا پکانے کا انتظام ہونے لگا۔صحابہ نے اپنے ذمہ کام بانٹ لیا۔کوئی چولہا جلانے لگا۔کوئی کچھ اور کام کرنے لگا۔انہوں نے مختلف کام آپس میں بانٹ لئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چو لہے میں آگ جلانے کے لئے لکڑیاں چاہئیں۔یہ کام میں کروں گا۔آپ کے صحابہ نے عرض کیا یہ کام حضور کے خدام کر لیں گے۔آپ تکلیف نہ کریں۔آپ نے آگے سے فرمایا ہاں سچ ہے تمہارے دل میں یہی جذبہ محبت ہے کہ میں کام نہ کروں اور میری جگہ تم کام کرو۔لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ میں تم سے اپنے کو ممتاز کروں۔حضرت عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں گیا۔بخاری کتاب الجرت بحوالہ سیرت خاتم النبیین جلد دوم صفحہ ۷ از قمر الانبیاء ابوداؤ دوترمذی بحوالہ سیرت النبی جلد دوم صفحه ۲۹۳ مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه ۱۸۷ بحوالہ سیرت النبی جلد دوم ۳۳۴ زرقانی جلد ۴ صفحه ۳۰۶ بحواله سیرت النبی جلد دوم صفحه ۳۳۴