سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 140
140 سبیل الرشاد جلد دوم کو بازار میں فروخت کر رہے تھے۔اتفاقاً حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا۔آپ خاموشی کے ساتھ اس کے پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے اور ان کو اپنی گود میں جھا مار کے پکڑ لیا۔انہوں نے پوچھا۔کون ہے؟ چھوڑ دو مجھے۔یہ کہتے ہی جب پیچھے نگاہ کی تو وہاں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے پایا۔یہ دوستی کا تعلق تھا جس کا آپ نے اظہار کیا۔فوری طور پر رد عمل یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے جسم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے ساتھ اور بھی زیادہ رگڑ نا شروع کر دیا۔پھر آپ نے اس سے دوستی کا جو بے تکلف تعلق تھا اس کا اظہار اس طرح فرمایا کہ وہ بازار میں کھڑے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا یہ غلام ہے کون خریدتا ہے اس غلام کو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ جیسے غلام کو جوشخص خریدے گا نقصان اُٹھائے گا۔میں اس کے کیا کام آؤں گا۔ان کی زندگیاں کس قدر بے نفس تھیں یعنی محبوب محمد ، محبوب خدا اور اپنے نفس کا یہ حال ہے کہ غلام بنیں دوستانہ محبت کا اظہار تھا۔لیکن کہا غلام ہی ہوں۔لیکن بے فائدہ اور نکما غلام۔مجھے کوئی خرید کر کیا کرے گا۔یہ نہیں کہا کہ مجھے آپ نے غلام کیسے بنا دیا۔بلکہ یہ کہا کہ ہوں تو میں غلام ہی مگر نکما اور بالکل بے برکت غلام ہوں۔مجھ سے کسی نے کیا فائدہ اٹھانا ہے۔پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ خدا کے نزدیک تمہارے دام زیادہ ہیں- جب آپ مجلس میں بیٹھتے تھے تو بڑا ہی بے تکلف دوستانہ ماحول ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی جو آپ کے عظیم روحانی فرزند تھے۔آپ کی مجلس میں بھی بڑا ہی بے تکلف ماحول ہوتا تھا۔آپ کی مجلس دوستوں کی مجلس کی طرح ہوتی ، البتہ آپ کے صحابہ ادب کا دائرہ جانتے تھے اس سے وہ بہر حال باہر نہیں نکلتے تھے لیکن بہر حال بے تکلفی تھی آپس میں کوئی تکلف نہیں تھا۔اور یہ اسی تصویر کا عکس تھا جو تصویر کہ ہمیں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتی ہے۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو لوگ بڑی کثرت سے آپ کے پاس آتے تھے اور بہت سے ایسے ہوتے تھے جو آپ کو پہچانتے نہیں تھے۔جب وہاں پہنچتے تو دیکھتے کہ بے تکلف ماحول ہے، کسی قسم کی تصنع نہیں۔سارے لوگ دوستوں کی طرح وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک دفعہ لوگ آئے اور انہوں نے پہچانا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔اور سمجھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ شاید رسول اللہ ہیں اور وہ آ کر اُن سے مصافحہ کرتے رہے اور کسی کو اس طرف توجہ نہیں ہوئی کہ پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آ کر مصافحہ کرتے ہیں اور پھر دوسروں سے۔ان کو بتا ہی دیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی اپنی شان ہے۔کچھ دیر کے بعد سورج کی شعاعیں حضرت نبی شمائل ترمذی بحوالہ سیرۃ النبی جلد دوم صفحہ ۳۹۷