سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 135

135 سبیل الرشاد جلد دوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر ٹھہرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں اور استعدادوں اور قابلیتوں کو آپ نے اس رنگ میں نشو و نمادی اور اس کے نتیجہ میں ان رفعتوں کو حاصل کیا کہ جن رفعتوں تک کوئی دوسرا انسان نہیں پہنچ سکا۔یہ درست ہے۔پس آج دنیا عزت اور شرف کی پیاسی ہے۔آج دنیا اپنا حق سب سے پہلے اس رنگ میں مانگتی ہے کہ جو شرف خدائے واحد دیگا نہ نے قائم کیا تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ ان کے حقوق انہیں ملنے چاہئیں اور میرے ساتھ عزت اور احترام کا سلوک ہونا چاہئے ، میرے ساتھ عزت کا معاملہ چاہئے۔یہ ایک بڑا ہی اہم فرض ہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوۂ کے مطابق جو ہم احمدیوں پر عائد کیا گیا ہے۔میرا دل کرتا ہے کہ آپ میں سے ہر ایک کو پکڑوں اور پکڑ کر جھنجھوڑوں اور بیدار کروں اور آپ کے دل میں یہ بات ڈالوں کہ ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے۔جسے آپ کو ادا کرنا چاہئے ورنہ آپ اپنے مشن میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتے۔شہروں میں میں نے دیکھا ہے کہ ہماری تبلیغ کا بڑا زور چند امراء پر خرچ ہو جاتا ہے۔آج کا امیر إِلَّا مَا شَاءَ الله - جس پر خدا تعالیٰ نے خاص فضل کیا ہو دنیوی لحاظ سے گلے گلے تک گند کے اندر پھنسا ہوا ہے۔اس کو اس گندگی سے نکالنا آسان کام نہیں ہے لیکن اس کے مقابلے میں اگر ہم یہی مثال دیں کہ آج کا غریب اور مسکین اور بے سہارا بے شک دینی اور دنیوی لحاظ سے گندہ اور میلا ہے۔لیکن دنیوی لحاظ سے ٹخنے کے اوپر اس کا گند نہیں آیا۔زیادہ سے زیادہ گندگی ہے تو اس کے گھٹنوں تک آگئی ہوگی۔اس کو اس گندگی سے باہر نکال لینا کہیں زیادہ آسان ہے بجائے اس کے کہ ایک امیر کو اس کی گندی گردن سے کھینچ کر باہر نکالنے کی کوشش کریں۔غریبوں کا سہارا بنیں۔اُس کے محسن بنیں ، اس کے غم خوار بنیں۔اُس کے ہمدرد بنیں۔اس پر شفقت کرنے والے بنیں اس کے کام آئیں۔اس کی تکلیفوں کو دور کریں، ان کے دکھوں کا مداوا نہیں۔اس کو یہ نظر آ رہا ہو کہ عقیدہ میرا اس سے اختلاف ہے لیکن میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ میرا ہمدرد اور خیر خواہ ہے۔پھر وہ آپ کی بات سُنے گا۔اسلام نے ہمیں یہ تو نہیں کہا کہ کسی آدمی کے دل میں زور سے نور بھر دیا جائے۔نہیں۔ہمارے پاس زبر دست دلائل ہیں جو اسلام کے حق میں دیئے گئے ہیں۔آسمانی تائیدات ہیں۔دعائیں ہیں۔کوئی شخص اگر آپ کے شہر میں بیمار ہے۔اور بیماری ایسی ہے کہ اس کا علاج کوئی نہیں۔ڈاکٹروں نے اس کو لاعلاج مریض قرار دے دیا ہے۔اگر آپ کے دل میں اس شخص کی سچی ہمدردی اور حقیقی خیر خواہی پیدا ہو جائے اور آپ بے چین ہو جائیں اس کی ہمدردی اور خیر خواہی میں اور اس جذبہ کے ساتھ رات کو اُٹھ کر اس کے لئے دعا کریں کہ اے خدا! میرا تو بھائی ہے لیکن تیرا تو بندہ ہے۔میرے دل