سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 134
134 سبیل الرشاد جلد دوم اور ان کی عزت کی جائے کیونکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ شخص جو چیتھڑوں میں ملبوس ہے اسی قسم کا انسان ہے جس نے پانچ سوروپے گز کے کپڑے کا سوٹ پہن رکھا ہے۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بحیثیت انسان دونوں برابر ہیں۔ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ہر دو کی ایک جیسی عزت اور شرف ! اور ہر دوا گر اپنے خدا سے دور ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک جیسے نفرت کے جذبات کے مورد! لیکن اگر چیتھڑوں میں ملبوس انسان اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کو عزت کی جھلک نظر آتی ہے اور اگر پانچ سوروپے گز کے کپڑے کا سوٹ پہنے والا انسان اس انسانی شرف کو قائم نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اُسے غضب کی چہکار نظر آئے گی۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس یقین سے ایمان لائے ہیں کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند ہیں اور آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ صحیح اسلام جو ہر قسم کے گرد و غبار سے محفوظ ہو دنیا میں قائم کریں اور ہم نے آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر یہ عہد کیا ہے کہ ہم آپ کے انصار کی حیثیت سے آپ کے اس مشن کو جیسا کہ آپ چاہتے ہیں یا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے دنیا میں قائم کریں گے اور اس کو پھیلائیں گے اور اس کو کامیاب کرنے کی کوشش کریں گے۔پس کوئی احمدی اگر کروڑ پتی بھی ہے تو اس کی ایک غریب سے زیادہ عزت نہیں ہے کیونکہ عزتیں دوہی ہیں جو اسلام نے ہمیں بتائی ہیں۔ایک انسان کا شرف اور دوسر ا تقویٰ کا احترام۔اس کے علاوہ تو اسلام نے انسان کی کوئی اور عزت ہمیں بتائی نہیں۔نہ کہیں دیکھی نہ پڑھی۔انسان کے شرف کو اس نے قائم کیا۔اور پھر خود انسان کو کہا کہ ایک اس سے بھی بڑھ کر شرف مقدر ہے۔اگر چاہیں تو اس شرف کو حاصل کر لیں اور وہ یہ ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقُكُمْ 0 خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کا شرف میں نے انسان میں قائم کیا ہے۔ایک دوسرے سے عزت سے پیش آؤ اور تقویٰ کا شرف میں نے اپنی آنکھ میں قائم کیا ہے۔اگر تم تقویٰ کے لباس میں ملبوس ہو گے تو میں تمہارے ظاہری لباس کو نہیں دیکھوں گا۔اس صورت میں تم میری نگاہ میں عزت کا مقام حاصل کرو گے۔تم میری رضا اور میری جنتوں کو پاؤ گے۔ان ہر دو شرف کے علاوہ کسی اور شرف کے متعلق تو میں نے کہیں نہیں پڑھا۔ہمارے لئے ہر دوشرف کا حصول اور پھر ان کا قیام ضروری ہے۔اس وقت میں شرف انسانی کی بات کر رہا ہوں۔ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ اس شرف انسانی کو قائم کرے جو قرآن کریم کی اس آیہ کریمہ پرمبنی ہے: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ“ تمہارا بھی اتنا ہی شرف انسانی ہے جتنا شرف انسانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔یہ صحیح سورة الحجرات آیت ۱۴