سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 133
133 سبیل الرشاد جلد دوم بھی واقف نہیں جیسے بدو کی مثال آچکی ہے۔اگر یہ جذبہ نہیں تو ہم نے اپنے آقا کے مقام کو نہیں پہچانا اور یہ مقام نہ پہچاننے کی وجہ سے آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل نہیں کیا۔اپنی زندگی پر وہ رنگ نہیں چڑھایا جو رنگ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں نظر آتا ہے۔اس وقت دنیا عزت کی بھوکی ہے۔اس وقت دنیا میں یہ جو نیا معاشرہ اور نئی ناپاکیاں دنیا میں پیدا ہو گئی ہیں۔ان کے نتیجہ میں انسان، انسان کی عزت کرنا بھول گیا ہے۔کسی کو کوئی ذرا سا عہدہ مل جائے تو وہ غریب آدمی کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتا۔یہ تو کیا ( اس بڑے آدمی کا ) ایک معمولی چپڑ اسی جھاڑیں دے کر بعض دفعہ کسی کو واپس کر دیتا ہے اور اس سے ملنے ہی نہیں دیتا۔اور مسلمان کہلاتے ہوئے یہ کام کیا جاتا ہے۔وہ مسلمان جس کو یہ کہا گیا تھا کہ تمہارا آقا وہ ہے جو اپنی زندگی میں یہ نمونہ دکھائے گا۔إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ" اور تم پر یہ ثابت کرے گا کہ تمہارے نفوس میں سے ایک رسول پیدا کیا ہے۔( بعض اور مثالیں ہیں ان میں اس چیز کی وضاحت ہو جائے گی ) اس وقت ہمارے ملک میں جہاں تک میں نے غور کیا ہے سب سے پہلی ضرورت شرف انسانی کا قیام ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ انسان جس کی سارے لوگ عزت واحترام کرتے ہوں کچھ عرصہ بھوکا رہ کر گزارہ کر سکتا ہے۔لیکن وہ شخص جس کا پیٹ بھرا ہوا ہے لیکن اس کو عزت اور احترام اور شرف کا مقام نہیں دیا گیا وہ سکون کی زندگی نہیں گزار سکتا۔وہ بے اطمینان رہے گا۔وہ بے چین رہے گا۔اس کی بے چینی کی کیفیت ہوگی۔وہ سکون اور وہ اطمینان جو اسلام اس معاشرہ میں پیدا کرنا چاہتا ہے وہ اس میں تو نہیں پیدا ہو گا۔پس اولیت اس وقت اس بات کو حاصل ہونی چاہئے کہ ہر ایک آدمی کو اس کا انسانی شرف اس کو مل جائے اور وہ اس رنگ میں ملے جس رنگ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے لوگوں کو حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا کیونکہ آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔میں نے لاہور میں اپنے وکلاء سے کہا تھا کہ وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتباع کرتے ہوئے آپ کے اسوہ پر چلتے ہوئے کم از کم پانچ ایسے آدمیوں سے دوستی قائم کریں اور ان کی عزت اور احترام اور ان کے شرف اور مرتبہ کا اظہار اسی رنگ میں کریں جس رنگ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔اور تعلق ہر ایک آدمی سے روا رکھنا ہے ، ضروری نہیں کہ وہ مسلمان ہی ہو۔لیکن بہر حال یہ تو مسلمان ہیں۔مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ہیں۔اسلام کا نام ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔پس غریبوں کے ساتھ تم دوستی اور حسن سلوک روا رکھو یہ ان کا حق ہے کہ ان کو شرف انسانی ملے