سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 123

سبیل الرشاد جلد دوم 123 گویا اس کا غلام ہے تب وہ گو کیسا ہی پہلے گنا ہوگا تھا بخشا جائے گا۔“ پھر فرماتے ہیں : ” اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اسکے دامن طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ 66 غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا۔" اسی طرح آپ فرماتے ہیں : اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے یا رسول اللہ (آپ) کے غلام بن جائیں گے اُن کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جو ان کو غیر اللہ سے رہائی دے گا اور وہ گنا ہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔اس کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِی - یعنی میں وہ مُردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں : سو ہم اپنے خدائے پاک و ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اس نے اپنے پیارے نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے روحانی فیضوں سے جو سچی تقوی اور بچے آسمانی نشان ہیں کامل حصہ عطا فرما کر ہم پر ثابت کر دیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔66 پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قسم کی بادشاہت اور سرداری عطا فرمائی تھی کہ اس کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے ، سب سے زیادہ مناسب ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف بلند آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۹۰-۱۹۱ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۹۳-۱۹۴ تریاق القلوب صفحه ۵ - ۶ روحانی خزائن جلد نمبر ۵ اصفحه ۱۳۸