سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 115

سبیل الرشاد جلد دوم 115 ایسے دعوے کئے۔چنانچہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب ہی کو دیکھ لو۔“ پھر آپ نے تحفہ گولڑویہ میں یہ فقرہ بھی لکھا ہے جسے پڑھ کر بڑی لذت آتی ہے۔وہاں بحث یہ ہے جہاں سے میں نے یہ فقرہ لیا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ پہلی تین صدیاں انتہائی بزرگی ، تقدس اور تقرب الہی پانے والوں کی ہوں گی اور اسلام اپنی روحانیت کے کمال کو پہنچا ہوا ہوگا لیکن پھر اس کے بعد ایک تنزل کا دور آئے گا جو ہزار سالہ دور ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصطلاح میں اس دور کو نیج اعوج کا زمانہ کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اس غیرت کی وجہ سے جو اسلام کے لئے آپ کو تھی اور اس شدید محبت کی وجہ سے جو آپ کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی یہ خیال پیدا ہوا کہ معترض یہ اعتراض کرے گا کہ پہلی تین صدیوں کے بعد پھر اندھیرا چھا گیا یہ کیا ہوا ، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض آتا ہے تو آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ۔گو دوسرے فرقوں کی نسبت درمیانی زمانہ کے صلحائے امت محمد یہ بھی با وجود طوفانِ بدعات کے ایک دریائے عظیم کی طرح ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ آیت استخلاف میں ”گما“ کے لفظ کے ساتھ ایک اور سلسلہ خلافت کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور یہ دوسرا سلسلۂ خلافت ہے کیونکہ پہلے دو سلسلہ ہائے خلافت در اصل ایک ہی سلسلہ کی دوشاخیں ہیں ان کو میں نے خلافت راشدہ کا نام دیا ہے یہی نام میرے خیال میں زیادہ مناسب ہے۔تو ایک تو خلافت کا وہ سلسلہ ہے جو دو شاخوں پر مشتمل ہے اور جسے میں خلافتِ راشدہ کا نام دیتا ہوں۔ایک دوسری خلافت کا وعدہ ہے جو خلافت ائمہ ہے۔اس کا وعدہ بھی گما کے لفظ میں ہے کہ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام کی اُمت سے یہ وعدہ کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو اس رنگ میں پورا کیا کہ حضرت موسی کی اُمت کو اپنے مذہب اور ہدایت اور تورات سے دُور جانے سے بچانے کے لئے حسب ضرورت ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی پیدا کئے اسی طرح اُمتِ محمدیہ سے یہ وعدہ ہے کہ وہ اُمت محمدیہ میں قرآن کریم کے انوار کی شمع کو روشن رکھنے کے لئے ہر زمانہ میں ، ہر ملک میں ، ہر قریہ اور شہر میں ایسے لوگ پیدا کرتا اخبار الحکم ۷ ارا پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸ کالم ۳، ملفوظات جلد سوم صفحہ ۲۴۹ تحفہ گولڑو یہ طبع اول صفحہ ۸۱ روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۲۲۶