سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page xi of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page xi

X قرآن کریم سیکھنا اور سکھانا انصار اللہ کی ذمہ داری ہے "انصار اللہ کو آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے طوعی اور رضا کارانہ چندوں کی ادائیگی میں مست ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو چست ہو جانے کی توفیق عطا کرے) لیکن مجھے اس کی اتنی فکر نہیں جتنی اس بات کی فکر ہے کہ آپ ان ذمہ داریوں کو ادا کریں جو تعلیم القرآن کے سلسلہ میں آپ پر عائد ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کے سلسلہ میں آپ پر دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک ذمہ داری تو خود قرآن کریم سیکھنے کی ہے اور ایک ذمہ داری ان لوگوں ( مردوں اور عورتوں ) کو قرآن کریم سکھانے کی آپ پر عائد ہوتی ہے کہ جن کے آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق راعی بنائے گئے ہیں۔آپ ان دونوں ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد تر ان کی طرف متوجہ ہوں ہر رکن انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی ذمہ داری اُٹھائے کہ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور بچے یا اور ایسے احمدی کہ جن کا خدا کی نگاہ میں وہ راعی ہے قرآن کریم پڑھتے ہیں اور قرآنِ کریم کے سیکھنے کا وہ حق ادا کرتے ہیں جو حق ادا ہونا چاہئے اور انصار اللہ کی تنظیم کا یہ فرض ہے کہ وہ انصار اللہ مرکزیہ کو اس بات کی اطلاع دے اور ہر مہینہ اطلاع دیتی رہے کہ انصار اللہ نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک نبھایا ہے اور اس کے کیا نتائج نکلے ہیں" ( خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 564)