سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 57

57 سبیل الرشاد جلد دوم دس سال کی جو قربانیاں دی تھیں اتنی بڑی دنیا میں اور اتنے بڑے اموال کے مقابلہ پر چند لاکھ کی حقیقت ہی کیا ہے۔ان حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں جو اپنے فضل اور نصرتیں نازل کیں انکی ایک شکل یہ ہے کہ ۴۴ء کے بعد غیر ممالک میں ایسی جماعتیں پیدا ہونی شروع ہو گئیں جو اخلاص رکھنے والی اور ایثار کا نمونہ دکھانے والی ، اپنے رب کی معرفت رکھنے والی اور اسکی راہ میں اپنی ہر چیز قربان کرنے والی تھیں۔اور مالی میدان آج ۳۰ لاکھ کے قریب انکی (سالانہ ) قربانیاں ہیں۔اس میں سے ہم نکال دیں گے وہ امداد جو گورنمنٹ کی طرف سے سکولوں کو دی جاتی ہے۔تب بھی بڑی قربانی ہے جو وہ دے رہے ہیں۔تو وہ دس سالہ قربانی جو ہے، وہ ممکن ہے (ممکن ہے کیونکہ اس وقت اعداد و شمار میرے سامنے نہیں ) لیکن ممکن ہے کہ دس سال کی مجموعی قربانی اس سال کی بیرونی ممالک کی قربانی سے کم ہو۔تو جو دس سال میں پھیلا کر آپ نے مالی قربانی دی تھی۔اور اپنے مالوں کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے قدموں میں لا رکھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت ڈالی کہ وہ اموال جب غیر ممالک میں تبلیغ اسلام پر خرچ ہوئے۔تو اس کے نتیجہ میں ایسی جماعتیں پیدا ہو گئیں کہ ان جماعتوں کی مجموعی قربانی آج ایک سال کی ، ان دس سال کے اموال سے زیادہ ہے۔تو کتنی بڑی برکت ہے جو ہمیں نظر آ رہی ہے ، اتنی بڑی نصرت ہے ، اس کی جوان قربانیوں کے شامل حال رہی۔وہ لوگ جن کو یہ خیال بھی نہیں آ سکتا تھا کہ کوئی اسلامی گروہ یہاں آ کر اسلام کی تبلیغ کرے گا۔جب وہ اپنے اموال کو دیکھتے تھے جب وہ اپنے سیاسی اقتدار کو دیکھتے تھے۔جب وہ عیسائیت کی اشاعت کے لئے اپنی قربانیوں کو دیکھتے تھے۔جانی بھی اور مالی بھی تو وہ سمجھتے تھے کہ ہم فاتح ہو جائیں گے۔اور عیسائیت کو ساری دنیا میں غالب کر دیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایسی ہوا چلائی جس کا ذکر میں نے اپنے اس مضمون میں بھی کیا ہے کہ خواب تو یہ دیکھ رہے تھے کہ افریقہ سارے کا سارا مسیح کے قدموں میں گر جائے گا۔خواب تو وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ ہندوستان میں اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو دیکھنے کی خواہش کرے گا تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ ہندوستان میں کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا سب عیسائی ہو جائیں گے۔اور خواب تو وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مکہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا۔لیکن آسمان کے خدا نے کہا کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔میں نے اپنے مسیح کو بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ وہ دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑ دے جس نے مسیح کی ہڈیوں کو تو ڑا اور آپ کے جسم کو زخمی کیا تھا۔اور دلائل کے ساتھ جیسا کہ بتایا گیا تھا۔اس صلیب کو تو ڑ دیا گیا ہے اور خود عیسائی اس بات کو ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ مسیح صلیب پر نہیں مرے۔اور اس پر بہت سی کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ابھی چند