سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 39

سبیل الرشاد جلد دوم 39 سیدنا ضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا افتتاحی خطاب تقریرے جولائی ۱۹۶۷ء بر موقع اجتماع مجلس انصاراللہ کراچی تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: ۸/ نومبر ۱۹۶۵ء کے بعد یہ پہلا اجتماع ہے، انصار اللہ کراچی کا۔جس میں میں شامل ہو رہا ہوں اور جس کے افتتاح کے لئے اس وقت میں کھڑا ہوا ہوں۔انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ اور بعض دوسری تنظیمیں جو جماعت احمدیہ کے اندر جاری کی گئی ہیں ان کا مقصد یہ نہیں کہ ہم کبھی کبھی اکٹھے ہو کر بعض دوستوں سے خدا تعالیٰ کی باتیں سنیں۔بعض باتوں سے حظ اٹھائیں۔اور پھر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور سمجھیں کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا ، کر لیا۔ذیلی تنظیموں کی غرض ان تنظیموں کی غرض یہ ہے کہ ہم کچھ کرنے کے لئے سیکھیں، یہ نہیں ہے کہ کچھ سنیں اور کچھ سیکھیں اور پھر کچھ کریں نہ۔پس عمل میں تیزی پیدا کرنے کے لئے عمل کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لئے عمل میں اسلامی روح کو زندہ رکھنے کے لئے ان تنظیموں کو قائم کیا گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ ساری تنظیمیں ایسی ہیں جن کا تعلق باتوں سے کم اور کام سے زیادہ ہے۔لیکن بعض مجالس انصار اللہ کی اور خدام الاحمدیہ کی بھی یہ سمجھنے لگ گئی ہیں کہ تربیتی جلسے کرنا یا سالانہ اجتماع منعقد کرنا ان کے لئے کافی ہے۔اور اگر وہ ایسا کر لیں تو کسی اور چیز کی انہیں ضرورت نہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ جو نوجوان خدام الاحمدیہ کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔اپنے اجتماعوں اور دوسرے اجلاسوں میں سیکھنے کے بعد پورا عمل کر لیتے ہیں۔تب بھی ان کا کام ختم نہیں ہوتا۔کیونکہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ، لجنہ اماءاللہ ہر ستہ تنظیمیں ( بعض دوسری تنظیمیں بھی ہیں ان کا ذکر اس وقت میں چھوڑتا ہوں ) خاص اور محدود دائرہ کے اندر کام کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔اور وہ خاص اور معتین دائرہ جو ہے وہ اس لئے معین کیا گیا ہے۔کہ جب اس دائرہ کے اندر کام کرنے کی ہمارے نوجوان اور بڑی عمر والے تربیت حاصل کر لیں گے اور توفیق پائیں گے کہ اس کام کے اہل ہوں گے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق بھی پائیں گے۔تو بڑے دائرہ کے اندر جو احمدیت کا دائرہ عمل ہے اس میں وہ اچھا کام کریں گے۔