سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 550
80 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کمزوروں کے متعلق اور منافقوں کے متعلق جو جہاد میں نہیں نکلے اور بعد میں عذر کرنے شروع کئے کہ یہ وجہ تھی اور یہ وجہ تھی ، ہمارے گھر ننگے تھے ، ڈکیتی کا خطرہ تھا وغیرہ وغیرہ، اس لئے ہم نہیں جا سکے ورنہ دل میں بڑی تڑپ تھی ، بڑی خواہش تھی ہمارے سینوں میں بھی مومنوں کے دل دھڑک رہے ہیں وغیرہ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہارا ارادہ تمہاری نیست کبھی بھی جہاد میں شامل ہونے کی نہیں ہوئی اور دلیل یہاں یہ دی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو اس کے لئے تیاری بھی ہوتی۔جس شخص نے اس زمانہ کے حالات کے مطابق نہ کبھی تلوار رکھی نہ نیزہ، نہ تیر کمان نہ زرہ ، نہ خود، نہ نیزے کا فن سیکھا، نہ تلوار چلانے کی مشق کی ، نہ تیر کمان ہاتھ میں پکڑا، وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ عارضی ضرورتوں کی وجہ سے میں اس جہاد سے محروم ہورہا ہوں ورنہ دل میں تڑپ تو بہت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دل میں اگر تڑپ ہوتی ، اگر تمہارا ارادہ اور نیت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کی ہوتی تو اس کے لئے تمہیں تیاری کرنی پڑتی۔جو مسئلہ زیر بحث ہے یہاں یعنی جہاد بالسیف اس کے لئے تیاری دو طرح کی ہے۔ایک جہاد کے لئے اسلحہ وغیرہ کی تیاری۔اس وقت رضا کار فوج تھی اپنے ساتھ کھانے کا سامان لے کے جاتے تھے، اس کی تیاری اور دوسرے مشتق ہے، تھوڑا کھا کے بھوکا رہ کے مشقت برداشت کرنے کی تیاری تلوار اس طرح چلانے کی تیاری کہ جب کسری کے ساتھ مقابلہ ہوا بعد میں تو کچھ عرصہ حضرت خالد بن ولید بھی اس محاذ پر سپہ سالار کے طور پر لڑ رہے تھے۔چار پانچ لڑائیاں انہوں نے وہاں لڑیں پھر وہ قیصر کے مقابلہ پر چلے گئے۔مسلمان فوج چار ہزار گھوڑ سوار اور چودہ ہزار پیادہ تھی اور ان کے مقابلہ میں ہمیشہ قریباً چار گنا زیادہ فوج کسری کی ہوتی تھی۔ایک دن کی لڑائی اگر آٹھ گھنٹے کی سمجھی جائے تو ہر دو گھنٹے کے بعد کسری کی فوجوں کا کمانڈ راگلی لڑنے والی صفوں کو پیچھے ہٹا لیتا تھا اور تازہ دم فوج آگے بھیج کے ان کی صفیں بنالیتا تھا۔طریقہ یہ ہوتا تھا کہ درمیان لڑنے والوں کے درمیان سے وہ آگے بڑھتے تھے اور محاذ کو سنبھال لیتے تھے اور لڑنے والے پیچھے ہٹ جاتے تھے اور مسلمان فوج کا ہر سپاہی آٹھ گھنٹے لڑتا تھا۔کسری کا سپاہی ہر دو گھنٹے کے بعد تازہ دم آگے آتا تھا لیکن باوجود اس کے کہ کسری کے تازہ دم فوجیوں کا وہ مقابلہ کر رہے ہوتے تھے، آٹھ گھنٹے ( اپنی زندگی کی حفاظت کی تو انہیں پرواہ نہیں تھی لیکن ) خدا کے نام پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان نثاری کا یہ مقابلہ تھا کہ آٹھ گھنٹے لڑتے چلے جاتے تھے۔کسی کے دل میں یہ خواہش ہو کہ وہ ان حالات میں آٹھ گھنٹے دشمن کا مقابلہ کرے، اس دشمن کا کہ ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج اس کے سامنے آرہی ہے ، وہ اس وقت تک ایسا نہیں کر سکتا جب تک تیاری نہ کی ہو اس کے لئے یعنی آٹھ گھنٹے لگا تار تلوار چلانے کی مشق نہ کی ہو اور آٹھ گھنٹے تلوار چلانے کے بعد وہ تھکاوٹ محسوس نہ کرے مزید لڑائی کے لئے تیار ہو۔تو ایک تیاری تو اسلحہ خریدنے کی ہے دوسری تیاری اس اسلحہ کے استعمال کی ہے۔مسلمان کے لئے