سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 427
427 سبیل الرشاد جلد دوم تھوڑے ہیں لیکن اگر کہیں تو اس زبان میں بھی فولڈر ہم شائع کر دیں۔میں نے کہا ضرور شائع کرو۔اُس وقت تک اُن کو ابھی یہ نہیں معلوم ہوا تھا کہ تین Dialects ہیں۔اتفاقاً یہ ہوا کہ جس Dialect میں انہوں نے فولڈر شائع کیا وہ سب سے زیادہ بولنے والی زبان کوئی تمیں چالیس ہزار کے درمیان کوئی تعداد ہے۔وہ لوگ او پر پہاڑوں میں رہتے ہیں، زیادہ تر تو وہ بازاروں میں ملتے ہی نہیں بڑی مشکل ہے۔وہاں جو پوسٹ آفس ہے اُس نے ایک بڑی ہی عجیب ( آپ کو عجیب اس واسطے لگے گی کہ یہاں کوئی تخیل ہی نہیں اُس کا) ایک سہولت مہیا کی ہے اور وہ یہ کہ ٹکٹ لگائے بغیر یعنی ہر فولڈر پر علیحدہ علیحدہ ٹکٹ لگانے کی ضرورت نہیں۔مثلاً ایک گاؤں کوئی x (ایکس ) لے لیا۔اُس کے سارے گھر پانچ سو ہیں اُس علاقے میں ، رومینش زبان بولنے والے۔پانچ سو گھروں کی فہرست ہر پوسٹ آفس میں موجود ہے۔تو پوسٹ آفس والے کہتے ہیں کہ ایک بنڈل بنا کے ہمیں دے دو۔اُس کا چارج بہت کم ہے ٹکٹ کے مقابلہ میں اور ہم اپنے پوسٹ آفس کو بھیج دیں گے اور وہاں ڈاک کے ساتھ ہر گھر میں وہ فولڈر پہنچا دے گا۔چنانچہ پہلی کوشش میں انہوں نے اس مشکل جگہ پہ جہاں آدمی کا پہنچنا بڑا وقت چاہتا تھا۔اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آٹھ ہزار فولڈر اتنی آبادیوں میں جن کی ٹوٹل تعداد کم و بیش آٹھ ہزار بنتی تھی۔کچھ او پر ہوں گے اس طرح وہ فولڈر پہنچا دیئے۔اور نیوز بلیٹن جو ہے وہ ریلیز کر دی۔اُس کے اوپر دو اخباروں نے بڑا دلچسپ مضمون لکھا بڑے غصہ میں کہ یہ کیا ہو گیا ہے ہماری قوم کو ہم عیسائی ہیں (وہ کیتھولک ہیں زیادہ ) اور اپنے مذہب سے بڑا پیار رکھتے ہیں لیکن ہم نے یہ خیال ہی نہیں کیا کہ جو پٹرول لے کے ہم اپنی کاروں میں ڈالتے اور استعمال کرتے ہیں۔وہ پیسہ اب مسلمان ملکوں کو جا رہا ہے۔اور مسلمان ملکوں نے اب یہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ یہ سارے ملکوں نے مل کے جماعت احمدیہ کو روپیہ دیا ہے کہ وہ ہمارے علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کریں۔یہ اچھی خاصی لمبی Commentary پر تنقید آ گئی ہے۔جرمن زبان میں یا شاید ایک دوسری زبان میں بھی ہے۔دو اخباروں نے لکھا ہے جرمن زبان میں بھی اور اس کا ترجمہ بھی اردو میں۔تو بہت دلچسپ ہے نا۔لیکن آپ کے لئے عبرت بھی ہے۔اگر میں چھپیں خاندان سوئٹزرلینڈ کے اس قسم کی تبلیغی مساعی کر سکتے ہیں۔آپ کیوں نہیں کر سکتے ؟ بہت شرم کی بات ہے۔ہے نا شرم کی بات۔اصل۔یہ ہے Personal Contact اور واقفیت پیدا کریں۔کوشش کریں تو بڑی واقفیت ہو جاتی ہے۔یہ خیال غلط ہے کہ احمدی کے خلاف پاکستان میں تعصب بہت ہے۔میں تو جہاں اس قسم کا کوئی اکٹھ ہو تو وہ آنکھیں دیکھا کرتا ہوں جو غضب ناک ہوں اور جن میں خون اُترا ہوا ہو، تیوریاں چڑھی