سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 394
سبیل الرشاد جلد دوم 394 طرف مائل ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا اور ہر گندگی کو اپنے وجود سے نکال باہر کرنا اور کوشش کرنا کہ انسان خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک اور مطہر بن جائے بخشش کا تیسرا اصولی سامان جس کا قرآن عظیم میں ذکر کیا گیا ہے ، وہ مجاہدہ ہے۔مجاہدہ اپنے نفس کے خلاف بھی ہوتا ہے اور مجاہدہ حقیقتاً ہر اس طاقت کے خلاف ہے۔( اصطلاحی معنی میں ) جو طاقت کہ انسان کو خدا سے دور لے جانے کی کوشش کرتی ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ میں نے بخشش کے سامان تمہارے لئے پیدا کر دئیے ، میری ہدایت کے مطابق ، میری رضا کے حصول کے لئے ان سامانوں کو استعمال کرو اور میرے پیار کو حاصل کرو۔تیسری چیز جس کا یہاں ذکر ہے وہ انعام مومنوں کو دیا جائے گا ، وہ رزق کریم ہے محض رزق نہیں کہا۔خدا تعالیٰ بڑا دیا لو ہے اور سب ہی کو دیتا ہے۔مومن ہو یا کا فرکسی سے بخل نہیں کرتا۔کسی کو بھو کا نہیں مارتا۔ہر ایک کی سیری کا اس نے انتظام کیا ہے۔کسی کو جاہل نہیں رکھنا چاہتا۔ہر ایک کے لئے علم کے حصول کی طاقتیں اس نے مہیا کی ہیں۔کسی کو ظلمات میں بھٹکتے دیکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کے لئے نور کے سامان اس نے پیدا کر دئیے۔بندہ خود اپنے آپ کو ان چیزوں سے محروم کر لیتا ہے۔پس اس آیت میں ایک تو سچے مومنوں کا ذکر ہے۔دوسرے اشارۃ ان کا جو سچے مومن نہیں۔تیسرے بنیادی طور پر سچے مومنوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انعامات مقرر کئے ہیں ان کا ذکر ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا یہاں تین بنیادی ایسے انعامات کا ذکر ہے۔یہاں یہ جو فرمایا کہ مذکورہ صفات رکھنے والے ہی سچے مومن ہیں۔وہ صفات پہلی چار آیات میں یہ بتلائی گئی ہیں۔نمبر 1 یہ کہ سچے مومن تقویٰ کے حصول کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔تقویٰ کے معنی ہیں ایسے اعمال صالحہ بجالانا جن کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی امان ، حفاظت اور پناہ میں آ جائے۔دوسرے یہ فرمایا کہ سچے مومن وہ ہیں جو آپس میں اصلاح کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اصلاح یافتہ معاشرہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔معاشرہ سے ہر قسم کی گندگی کو دور کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔اور تیسرے یہ کہ تقویٰ کے حصول اور اصلاح کی کوشش، ان دو اغراض کے لئے سچا مومن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزارتا ہے۔اور چوتھے یہ کہ ایسا سچا مومن وہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اس کا شعار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو یہ ہے کہ اس نے اپنی کامل تعلیم ، قرآن عظیم میں جو احکام دیئے ہیں ان