سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 390 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 390

390 سبیل الرشاد جلد دوم بہت سے ہیں۔اُن میں سے میں ایک کو اس وقت لوں گا جس کی بنیادی حیثیت ہے اور وہ ہے ” بولنا“ تعلیم یہ دی کہ (۱) جھوٹ مت بولو۔(۲) دوسرے یہ کہ سچ بولو۔تیسرے یہ کہ صرف سچ نہیں بلکہ قول سدید ہو۔سچ بھی ہو اور ہر قسم کی کجی سے پاک بھی ہو۔اور اس پر زائد یہ کہ قول طیب بھی ہو۔یعنی جھوٹ نہ ہو سچ ہو ، سدید ہوا اور طیب بھی ہو۔طیب کے معنی ہیں جو موافق ہو۔یہ موافق ہونا انسان کے مخاطب کو مد نظر رکھ کر بھی ہے یعنی جس ماحول میں باتیں کر رہے ہو اس ماحول میں سننے والوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے والی باتیں کرو۔فرمایا : جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص سے اُس کی عقل کے مطابق بات کرو۔یہ طیب ہی کی تفسیر ہے۔پھر جہاں تک حقوق کا سوال ہے۔اسلام نے حقوق کی تعیین اور اُن کی حفاظت کے سلسلہ میں انسان انسان میں کوئی تمیز نہیں کی مثلا لیاقت کے لحاظ سے انسان میں پیدائشی فرق تو ہے لیکن حکم یہ ہے کہ ہر ایک شخص کو معاشرہ میں اُس کی لیاقت کے مطابق مقام دیا جائے اور اس میں مسلم وکافر کی کوئی تمیز نہیں۔فرمایا: أنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا اسلامی تعلیم اہلیت کے مطابق تقرریاں بھی کرتی ہے اور ترقیات بھی دیتی ہے۔اس کی بیسیوں مثالیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ملتی ہیں۔خلفائے راشدین نے اپنے اپنے فن کے ماہرین کو مدینہ بلا کر بہت سے شعبوں کا افسر اعلیٰ مقرر کیا۔حالانکہ ان لوگوں کا تعلق نہ صرف یہ کہ غیر مسلم عقائد کے ساتھ تھا بلکہ اسلام سے لڑنے والی جنگجو اقوام کے ساتھ بھی تھا۔اسلام ایک حسین مذہب ہے۔قولانہ فعلاً کسی جگہ بھی دُکھ کے سامان نہیں پیدا کئے اس نے بلکہ ہر ایک کے لئے مسرت اور اطمینان کے حالات پیدا کئے۔یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان کے ہاتھ میں گند تلوار میں تھیں ، اسلام کے حُسن نے لاکھوں انسانوں کے دل جیتے اور اس پیاری تعلیم نے انہیں رب کریم کے محبوب رسول کے قدموں میں لا بٹھایا۔پس انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ اپنی زندگیاں اس نمونہ کے مطابق ڈھالیں اور انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ اپنی نسلوں کی صحیح طور پر تربیت کریں۔اپنے گھروں میں بچوں کو ( دین حق ) سکھائیں۔قرآن پڑھا ئیں۔ہمارے رسول کی پیاری باتیں اُن کے کانوں میں ڈالیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے عاشق حضرت مہدی کی باتیں اُن تک پہنچائیں۔اور مہدی علیہ السلام کی کتب کا خود بھی مطالعہ کریں اور اپنی نسلوں کو بھی کروائیں تا کہ جو ہماری ذمہ داری ہے کہ ساری دنیا میں اسلام غالب ہو۔اس سورۃ النساء آیت ۵۹