سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 371
371 سبیل الرشاد جلد دوم میں یہ بتا رہا ہوں کہ قانون کا اجراء کرنے والے بعض دفعہ غلطی کرتے ہیں لیکن اس مہذب دنیا میں غلط قسم کے قانون نہیں بنائے جار ہے۔إِلَّا مَا شَاءَ الله - اگر بنائے جاتے ہیں تو اس کے لئے بہت سے عقلی اور اخلاقی دلائل دیئے جاتے ہیں کہ یہ قانون ہے اور اس کے پیچھے عقل یہ کہتی ہے اور اخلاقی اقدار یہ کہتی ہیں۔مثلاً ساؤتھ افریقہ اس ملک میں بسنے والے افریقنز کا ملک ہے اور ہمارے نزدیک سفید فام اقوم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کے ملک پر غاصبانہ قبضہ جمائے رکھیں۔۱۹۷۰ء کے دورے میں جب میں افریقہ سے لندن واپس آیا۔تو اس وقت وہاں امیگریشن (Immigration) کے بارے میں بڑا چرچا تھا کہ لوگ زیادہ آ رہے ہیں۔ان کی آمد کا سلسلہ بند کیا جائے۔وہاں جانے والوں میں ہمارے علاقے اور ہمارے ملک کے لوگ بھی تھے۔اور دوسرے ممالک سے بھی آئے ہوئے تھے۔غیر ملکیوں نے کہا کہ اس کے منہ سے نکلوائیں کہ انگریز غیر ملکیوں پر بڑا ظلم کر رہے ہیں۔اور پھر اسے ساری دنیا میں پھیلا ئیں۔مجھے پہلے پتہ لگ گیا۔میں نے انہیں کہا کہ جو بات سچی سمجھتا ہوں میں تو اسی کا اظہار کروں گا تمہارے مطلب کی بات نہیں کروں گا۔میں سیاسی آدمی نہیں ہوں میں تو مذہبی آدمی ہوں اور سچ بولنا میرا شعار ہے۔اور میرا فرض ہے اور میرا طرہ امتیاز ہے۔میں ڈپلومیسی(Diplomacy) استعمال نہیں کر سکتا۔اس لئے میں نے انہیں کہا کہ ایسے سوال نہ کریں۔لیکن انہوں نے سوال کر دیا۔چنانچہ جب انہوں نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ انگریز ہم لوگوں کو اپنے ملک میں آنے نہیں دیتے۔آجائیں تو ٹھہر نے نہیں دیتے۔اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے تو میں نے جواب میں کہا کہ بات یہ ہے کہ انگلستان کا جزیرہ انگلستان میں بسنے والوں کا ہے، انگریز کا ملک ہے اگر وہ تمہیں یہاں رہنے دیں تو یہاں رہو۔اگر وہ کہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ تو یہاں سے چلے جاؤ۔لیکن میں نے انہیں کہا کہ میں تمہیں ایک بات بتا دیتا ہوں۔اگر تم ان کے دل جیتنے میں ناکام رہو تو تمہارا کوئی حق نہیں ہے کہ یہاں رہو۔اور اگر تم ان کے دل جیتنے میں کامیاب ہو جاؤ تو وہ تمہیں ہرگز یہاں سے نہیں نکالیں گے۔پھر کسی نے مجھ سے سوال کیا کہ ساؤتھ افریقہ کے متعلق کیا خیال ہے۔میں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ ، ساؤتھ افریقنز کا ہے۔وہاں انگریز کو رہنے کا کوئی حق نہیں۔اگر افریقن کہیں کہ انگریز وہاں سے چلا جائے تو ان کو وہاں سے واپس آ جانا چاہئے۔اور اگر یہ ان کے دل نہیں جیت سکتے تو ان کو وہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔لیکن اگر یہ ان کے دل جیت لیں۔اور وہ اپنی خوشی اور پیار سے انگریز کو سفید فام کو وہاں رکھنے کے لئے تیار ہوں تو پھر کسی اور کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔غرض جس وقت دنیوی عقل اور کم عقلی کا مرکب غلط قسم کے قانون بنا تا ہے تو اس کے لئے بھی جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔عقلی جواز بھی اور اخلاقی جواز بھی۔مثلاً ساؤتھ افریقہ کہے گا کہ یہ لوگ