سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 348

348 سبیل الرشاد جلد دوم کے لئے وہ اس سرزمین پر اُترا ہے، وہ اسے نا کام نہیں کرے گا اور بے سہارا نہیں چھوڑے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور خدا تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کی مگر اسلام کے اسی بطل جلیل کی گردن بادشاہ وقت کے دربار میں اڑا دی گئی اور یہ اس لئے ہوا کہ ابھی نوع انسانی کا امت واحدہ اور ایک خاندان بن جانے کا وقت نہیں آیا تھا۔اُس وقت خدا تعالیٰ کی دوسری حکمتیں تھیں جو اسلام کی ترقی میں کارفرما تھیں۔پھر امت واحدہ بنے کا وقت آ گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی یعنی شبہ گذرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا۔کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اُسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قو میں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں ، زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اُسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔پس زمانہ محمد دمی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے۔اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہو لے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اُسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (سورۃ الصف: 10) یعنی خداوہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تختلف ہو۔اس لئے اس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔چشمہ معرفت صفحه ۸۲-۸۳ - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۰-۹۱