سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 300 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 300

سبیل الرشاد جلد دوم 300 ۷ ستمبر کی آئینی ترمیم کے معنے اس وقت جیسا کہ میں ایک عرصہ سے جماعت احمدیہ کو بار بار توجہ دلا رہا ہوں ، حالات کچھ اس قسم کے پیدا ہو گئے ہیں کہ ہمیں اور بھی زیادہ ضرورت پڑ گئی ہے کہ ہم ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔یہ ضرورت نئی نہیں لیکن اس نے نیا رنگ بدلا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں تو اپنی کتب میں اپنے آپ کو اسلام کے جرنیل کی حیثیت میں اور بنی نوع انسان کے خادم کے طور پر بڑے زبر دست دلائل کے ساتھ پیش کر رہے تھے لیکن ابھی آپ نے مسیحیت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور نہ بیعت لینی شروع کی تھی جس کا مطلب ہے کہ ابھی ایک احمدی بھی نہیں تھا مگر آپ کے گھر میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں کفر کے فتوے موجود تھے۔پس جہاں تک کسی دوسرے شخص کی طرف سے ہمیں کا فر یا غیر مسلم قرار دینے کا سوال ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔البتہ پہلے تھوڑے لوگوں نے کہا پھر بہتوں نے کہنا شروع کر دیا۔پہلے ایک خاص علاقے میں احمدیوں کو کافر کہا گیا۔اب ساری دُنیا میں لوگ احمد یوں کو کافر کہنے لگ گئے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔تاہم ۱۹۷۴ء سے پہلے حکومتوں نے قانون یا دستور کی اغراض کے لئے احمدیوں کو کبھی Not" "Muslim نہیں قرار دیا تھا۔اس سے مخالفت کے جو نئے زاویے پیدا ہوئے ، میں اُن میں نہیں جاؤں گا۔شاید اس سلسلہ میں مجھے کوئی بات کرنی پڑے تا ہم زیادہ تر میں اپنے موقف کو بیان کروں گا۔۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو جو ترمیم پیش ہوئی اور اُس وقت اسمبلی میں جو پاس ہو ا جسے اُس وقت کے نمائندہ دماغ نے سمجھا، وہ ہمارے پرائم منسٹر صاحب کی ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی تقریر میں بیان ہو چکا ہے یعنی یہ کہ ۷ ستمبر کی ترمیم کے کیا معنے لئے گئے اور اُن کے دماغ میں جو چیز تھی وہ ظاہر ہوگئی۔آخر وہی ہر چیز کے کرتا دھرتا ہیں۔وہ پیپلز پارٹی کے ذمہ دار لیڈر تھے جس کی حکومت تھی اور اس واسطے انہوں نے جو سمجھا وہ اپنی تقریر میں بڑے دھڑلے کے ساتھ بیان کر دیا۔پس اس ترمیم کے بارہ میں انہوں نے جو بیان دیا۔اس کے علاوہ کوئی اور معنے نہیں لئے جا سکتے۔بعد میں آنے والے حالات میں کئی اور چیزیں سامنے آ سکتی ہیں اور انسان کے دماغ کو دُھندلا کر سکتی ہیں لیکن اُس وقت جب کہ یہ ترمیم پاس ہوئی اس کے متعلق اُن کے دماغ میں جو کچھ تھا وہ اُنہوں نے بیان کر دیا کہ وہ اس ترمیم کے متعلق یہ سمجھتے ہیں۔احباب جانتے ہیں میں نے مشاورت کے موقع پر بھی کہا تھا اور بعد میں خطبہ جمعہ میں بھی بیان کیا ہے کہ غیر ( مخالف ) ہمیں جو مرضی چاہے سمجھتا رہے۔اس کی زبان کو ہم نہیں بند کر سکتے۔ہما را حق بھی کوئی نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ جو اپنے متعلق ہم سمجھتے ہیں وہی تم ہمارے متعلق بھی سمجھو۔یہ ہمارا حق نہیں ہے۔تمہارا یہ حق ہے کہ تم جو چاہو سمجھو اور جو چاہو اسمبلی میں پاس کرو۔یہ تمہارا حق ہے لیکن تمہارا یہ حق نہیں ہے کہ تم یہ کہو کہ تم ہمیں جو سمجھتے ہو ہم بھی اپنے آپ کو وہی سمجھنے لگ جائیں۔یہ تمہاراحق نہیں ہے اور جس چیز