سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 299
سبیل الرشاد جلد دوم 299 ذمہ داریاں ڈالتا ہے جو اس تنظیم سے وابستہ ہیں، اس کے اراکین ہیں۔ایک ذمہ داری یہ ہے کہ انصار اللہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہمارے جو طفل ہیں یا خادم کہلانے والے ہیں جن کا اطفال الاحمدیہ یا خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے تعلق ہے ، وہ حقیقتاً خدا تعالیٰ کے اطفال اور خدا تعالیٰ کے لئے بنی نوع انسان کے خدام بنیں۔اس کے لئے ہم تفصیل میں بھی جاتے ہیں اور ہم آپس میں اصولی باتیں بھی بیان کیا کرتے ہیں۔ہمارے دین کی ، ہمارے اسلام کی ، ہماری تعلیم کی ، ہماری ہدایت اور ہماری شریعت اسلامی کی جو بنیاد ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کا وہ علم رکھنا جو قرآن عظیم میں بیان ہوا ہے اور جس کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً یا قولاً تفسیر بیان فرمائی ہے یا اُن بزرگ ہستیوں نے بیان فرمائی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں تیرہ سوسال تک پیدا ہوتے رہے۔جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاں نثاری دکھائی اور اس سے انتہائی طور پر محبت کی۔قرآن کریم کے نئے سے نئے علوم جو کتاب مکئون ہی تھے ، وہ انہوں نے خدا سے سیکھے اور پھر ضرورتِ زمانہ یا ضرورتِ علاقہ کے مطابق لوگوں کو جو مسائل پیش آگئے تھے اُن کو انہوں نے حل کیا اور پھر آخر میں جیسا کہ بتایا گیا تھا صحیح اور مہدی علیہ السلام آگئے اور خدا تعالیٰ نے آپ کی بعثت سے لے کر قیامت تک نوع انسانی کو جس قدر مسائل پیش آنے والے تھے۔آپ کو اُن سب کا حل تفصیل کے ساتھ یا بیج کے طور پر بتا دیا۔کیونکہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے انتہائی تعلق محبت پیدا کیا۔اور محبت الہی کو انتہائی طور پر حاصل کرنے کے بعد قرآن کریم کے حقائق و معارف اور اسرار روحانیہ کو پایا۔آپ نے عشق محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں فنا ہو کر قرآن کریم کی تفسیر بیان فرمائی۔یہ محض ہمارا اعتقاد ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کا ہر وہ لمحہ جو مخالف اسلام کا مقابلہ کرنے میں گزرتا ہے وہ اس بات پر شاہد ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے محض اسلام کے دفاع کے لئے نہیں بلکہ اسلام کو دُنیا کے تمام ادیان اور سب از منہ پر غالب کرنے کے لئے زبردست عقلی دلائل دیئے اور آسمانی نشانوں کے اتنے وسیع دروازے کھول دیئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور دُنیا کو یہ بات مانی پڑتی ہے کہ مہدی علیہ السلام کا حقیقتاً وہی مقام ہے جس کا ذکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مجالس میں بڑے پیار اور محبت سے کیا تھا۔یہ ایک بنیادی چیز ہے جسے انصار اللہ سے تعلق رکھنے والے احمدیوں کے ذہنوں میں ہر وقت خاص رہنا چاہئے اور انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر وقت چوکس اور بیدار رہ کر اپنے ماحول کا جائزہ لیتے رہیں کہ اطفال اور خدام کے ذہنوں سے یہ اصولی با تیں زائل تو نہیں ہو جاتیں یا اُن کے ذہنوں میں دھندلا تو نہیں جاتیں۔