سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 286

286 سبیل الرشاد جلد دوم موجود ہے ) کہ مہدی معہود قرآن کریم کی جو تفسیر کرے، اس کے متعلق تمہیں ماننا پڑے گا کہ وہی درست ہے اور جس حدیث کے متعلق مہدی کہے کہ یہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے وہ تمہیں ماننا پڑے گا اور جس کے متعلق وہ یہ حکم لگائے کہ یہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں ہے اس کے متعلق تمہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں ہے۔یہ کوئی ایسا حق نہیں جو تمہارے لئے ایک اچنبہ ہو۔پانچ لاکھ اکانوے ہزار روایات اور احادیث پر امام بخاری نے حکم لگایا کہ وہ قابل قبول نہیں اور تم نے خاموشی کے ساتھ اس حکم کو قبول کیا اور امام بخاری کا اسے بڑا کارنامہ بتایا۔لیکن امام مہدی علیہ السلام اگر پچاس (۵۰) سو (۱۰۰) روایات واحادیث پر حکم کی حیثیت سے یہ حکم لگائے کہ یہ احادیث درست نہیں اور رڈ کی جاتی ہیں یارڈ کے قابل نہیں اور قبول کی جاتی ہیں تو یہ بات تمہیں ناگوار گزرتی ہے اور تم فساد پر آمادہ ہو جاتے ہو۔حالانکہ اس حق کو ان علماء کے متعلق تم قبول کر چکے ہو جنہیں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں کہا۔آخر انسان کو اپنے اندر کچھ تو رشد پیدا کرنی چاہئے۔لوگوں کو بات کرتے وقت کچھ تو سوچنا چاہئے کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔حضرت مہدی معہود کا عیسائیت کو چیلنج پس جماعت احمدیہ پر قرآن کریم کے ترجمہ میں تحریف اور تغلیط کا اعتراض بالکل بے جا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے اور اُن بشارتوں کے مطابق جو امت محمدیہ کو دی گئی تھیں، حضرت مہدی معہود علیہ السلام کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ہمارا مشاہدہ ہے اور کئی لوگ اس حقیقت کے معترف ہیں کہ اسلام کے خلاف عیسائیت کی یلغار سب سے بڑی یلغار تھی۔جس کا حضرت امام مہدی علیہ السلام نے تن تنہا مقابلہ کیا اور عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کو ایک زندہ مذہب ثابت کیا۔آپ نے عیسائیوں کو یہ چیلنج دیا کہ تم اپنی ساری تو رات سے خدا تعالیٰ کی ذات وصفات و دیگر روحانی علوم کے متعلق وہ تعلیم بیان نہیں کر سکتے جو قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی سورت یعنی سورہ فاتحہ میں بیان ہوئی ہے۔میں نے اس چیلنج کو ۱۹۶۷ء میں ڈنمارک میں دُہرایا تھا۔میں نے پادریوں سے کہا ہو سکتا ہے تم کہو پادریوں کی پہلی نسلوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔اس لئے آج جبکہ تم میں سے چوٹی کے پادری موجود ہیں میں اس چیلنج کو پھر یاد کرا تا ہوں۔(اُن میں سے ایک وہ پادری بھی موجود تھا جو تقسیم ملک سے پہلے ہندوستان میں کم و بیش ۲۷ سال تک عیسائی مشن کا انچارج رہا تھا ) میں نے اُن سے کہا تم اس غلطی میں نہ رہنا کہ ایک چیلنج تھا جسے دنیا بھول جائے گی۔میں اس چینج کو ہرا تا ہوں۔مہدی معہود کے نائب اور خلیفہ