سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 3

سبیل الرشاد جلد دوم حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اس دنیا میں لگائے۔3 بعض ملک تو ایسے ہیں کہ وہ اپنی تعداد کے لحاظ سے یا بعض جگہ اپنی مالی قربانیوں کے لحاظ سے پاکستان کی جماعت احمدیہ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اگر ہم چوکس و بیدار نہ ہوئے۔اگر ہمارے دل میں یہ خواہش ٹھنڈی نہ پڑ گئی کہ ہم نے کسی اور جماعت کو اپنے سے آگے نہیں نکلنے دینا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنا مسیح ہمارے درمیان پیدا کیا تھا اور اگر ہم دوسروں کو آگے بڑھنے دیں تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہم یہ ثابت کر رہے ہوں گے کہ ہم نے اس نعمت کی وہ قدر نہیں کی جو قدر ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کی کرنی چاہئے۔اس وقت میں جماعتوں سے تحریک جدید کی مالی قربانیوں کے متعلق وعدے بھی لینا چاہتا ہوں۔کچھ افراد کے وعدے تو میرے پاس پہنچ چکے ہیں اور ان وعدوں میں حضرت مصلح موعودؓ کی ہر دوازواج ( جو میری مائیں ہیں ) کے وعدے شامل ہیں۔انہوں نے سب سے سبقت کی ہے اور جب میں جمعہ پڑھا کر اندر گیا تو اس وقت ان کے وعدے مجھے مل گئے۔پھر کراچی کی جماعت کا بھی ایک وعدہ پچاس ہزار روپیہ کا ہے۔جزاکم اللہ ! لیکن ان کا سال رواں کا وعدہ ۸۰ ہزار روپے کا ہے۔انہوں نے یہ لکھا ہے کہ یہ ہماری پہلی قسط ہے زیادہ تفصیل کے ساتھ ہم واپس جا کر لکھیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ جب انکی تفصیل مجھے پہنچے گی تو وہ ۸۰ ہزار روپے کے لگ بھگ نہیں ہوگی بلکہ نوے ہزار یا ایک لاکھ کے لگ بھگ ہوگی۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے دفتر دوم اس طرف پوری توجہ نہیں کر رہا۔وہ احمدی جو تحریک جدید کے دفتر دوم میں شامل ہوئے ہیں اگر حضرت مصلح موعودؓ کی خواہش کے مطابق اپنی ایک ماہ کی آمد کا ۵/ ۱ حصہ تحریک جدید کے لئے ادا کریں تو ان کے وعدے دولاکھ نوے ہزار کی بجائے پانچ لاکھ تک ہو سکتے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے دلوں میں تڑپ تو ضرور ہوگی کہ وہ حضور کی اس خواہش کو پورا کرنے والے ہوں لیکن سستی اور غفلت کے نتیجہ میں وہ ابھی تک ایسا نہیں کر سکے-۲۲ سال گزر چکے ہیں۔۲۳ ویں سال یہ غفلت اور سستی دور ہونی چاہئے اور دفتر دوم کے وعدے پانچ لاکھ تک ضرور پہنچ جانے چاہئیں۔دفتر اول ایک ایسا دفتر ہے جس کی آمد دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے اور کم ہوتی جانی چاہئے کیونکہ جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے اڑھائی ہزار احمدی جنہوں نے دفتر اول میں حصہ لیا تھا وفات پاچکے ہیں اور اڑھائی ہزار باقی ہیں۔یعنی دفتر اول میں حصہ لینے والوں کا پچاس فیصدی اس دنیا سے گزر گیا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا تھا ان کی جگہ دفتر سوئم نے لینی ہے۔اس وقت اصل بار دفتر دوم پر ہے۔ان کو اس طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔اس وقت حال یہ ہے کہ باہر کے ممالک ہم سے مبلغین کا بھی مطالبہ کر رہے