سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 124
سبیل الرشاد جلد دوم 124 آسمان پر بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھے ہیں۔یہ وہ بادشاہ ہے جو ہمارا بادشاہ ہے۔یہ وہ ہمارا آتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے انتہائی پیار کے نتیجہ میں عطا کیا ہے اور جسکی اطاعت میں نجات اور جسکی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور ہمارے اوپر اس بادشاہ نے یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ 166 کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دائرہ اثر و رسوخ میں بطور راعی کے ہے۔اور تم میرے اور میرے خدا کے سامنے جواب دہ ہو گے کہ تم نے اپنی اس ذمہ داری کو کس طرح اور کیسے نباہا۔اس مقام کے لحاظ سے جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو بھی تمہارے حلقہ اثر ونفوذ میں ہیں۔ان میں سے ہر ایک کا یہ خیال رکھنا کہ وہ آوارہ ہو کر ان زنجیروں کو نہ تو ڑ دے جو رسول کی محبت اور اطاعت کی زنجیریں اس کے پاؤں میں ڈالی گئی ہیں۔اس طوق سے اپنی گردن کو نہ نکالے جو طوق کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس محسن اعظم کے احسان کی رسیوں سے بن کر اسکے گلے میں ڈالا گیا ہے۔ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم خود بھی اور اپنی نسلوں کو بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی زنجیروں میں ہمیشہ جکڑے رکھیں اور رائی ہونے کا حق ادا کریں کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو جیسا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ہم آپ کے سامنے بھی اور خدا تعالیٰ کے سامنے بھی جواب دہ ہوں گے۔اس وقت احمدیت کے لحاظ سے ہم جس زمانے سے گزر رہے ہیں اس کی دو نمایاں خصوصیات ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہماری ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کامیابیاں بخشیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرداری اور با دشاہی کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں گاڑنے کی توفیق عطا ہوئی ہے۔کچھ لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھیڑیں بن کر ہمارے حلقہ میں آئیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اُن کا راعی بنادیا ہے اور کچھ لوگ اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔بہت ہی بڑا کام ہے جو ہم نے کرنا ہے۔اتنا بڑا کام ہے کہ سوچیں تو انسانی ذہن پریشان ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ ایک طرف اپنی کمزوری کو دیکھتا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے اس عظیم حکم کو دیکھتا ہے۔سوائے اس کے کوئی چارہ نظر نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ میں فنا ہو کر ایک نئی زندگی پانے کی خواہش پیدا ہو تا کہ ہم وہ ذمہ داری نباہ سکیں جو ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔پس ایک طرف کام دن بدن بڑھتا چلا گیا ہے اور ہم اسلام کے آخری فتح اور غلبہ کے زمانے حیح بخاری کتاب النكاح المراة راعية في بيت زوجها جلد ۲ صفحہ ۷۸۳