سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 162
۱۶۲ جب تک کہ تجھے معافی نہ مل جائے۔مگر عبدالمنان نے اس نو احمدی کی بات بھی نہ مانی۔پھر میں نے بھی مری میں خطبہ دیا اور معافی کا طریق بتایا لیکن اس نے نہ تو اس طریق پر عمل کیا جو میں نے خطبہ میں بیان کیا تھا اور نہ اس طریق پر عمل کیا جو اس نئے احمدی نے اسے بتایا تھا اور اخباروں میں شور مچایا جارہا ہے۔بے شک وہ اور اس کے ساتھی اخباروں میں جتنا چاہیں شور مچالیں۔وہ اتنا شور تو نہیں مچاسکتے جتناسن ۶۵۳ میں جماعت کے خلاف مچایا گیا تھا۔مگر جو خد اسن ۵۳ء میں میری مدد کے لئے دوڑا ہوا آیا تھا، وہ خدا اب بڑھا نہیں ہو گیا کہ وہ سن ۵۳ء میں دوڑ سکتا تھا اور اب نہیں دوڑ سکتا بلکہ وہ اس وقت بھی دوڑ سکتا تھا اور اب بھی دوڑ سکتا ہے اور قیامت تک دوڑ سکے گا۔جب بھی کوئی شخص احمدیت کو کچلنے کے لئے آگے آئے گا میرا خدا دوڑتا ہوا آ جائے گا اور جو شخص احمدیت کو مٹانے کے لئے نیزہ مارنے کی کوشش کرے گا۔میرا خدا اپنی چھاتی اس کے سامنے کر دے گا اور تم یہ جانتے ہی ہو کہ میرے خدا کو نیزہ نہیں لگتا۔جو شخص میرے خدا کے سینہ میں نیزہ مارنے کی کوشش کرے گا۔وہ نیزہ الٹ کر خود اس کے سینہ میں جالگے گا اور جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے ایمان کی وجہ سے محفوظ رہتی چلی جائے گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ لوگ اپنے ایمان کو قائم رکھیں۔حضرت خلیفہ امسیح اول سنایا کرتے تھے۔جب میں بھوپال میں پڑھا کرتا تھا تو وہاں ایک بزرگ تھے۔جنہیں میں اکثر ملنے جایا کرتا تھا۔نیک آدمی تھے اور مجھ پر انہیں اعتماد تھا۔ایک دن کچھ وقفہ کے بعد میں انہیں ملنے کے لئے گیا، تو کہنے لگے میاں تم سے ہم محبت کرتے ہیں۔جانتے ہو کیوں محبت کرتے ہیں؟ ہم اس لئے تم سے محبت کرتے ہیں کہ کبھی کبھی تم آجاتے ہو، تو خدا تعالیٰ کی باتیں کر لیتے ہیں۔اس کے بعد پھر دنیا کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں لیکن تم بھی کچھ عرصہ سے میرے پاس نہیں آئے۔تم نے کبھی قصاب کی دکان دیکھی ہے؟ میں نے کہا ہاں دیکھی ہے۔اس بزرگ نے کہا۔تم نے دیکھا نہیں کہ قصاب کچھ دیر گوشت کاٹنے کے بعد دو چھریوں کو آپس میں رگڑ لیتا ہے۔پتہ ہے وہ کیوں اس طرح کرتا ہے وہ اس لئے ایسا کرتا ہے کہ گوشت کاٹتے کاٹتے چھری پر چربی جم جاتی ہے اور وہ کند ہو جاتی ہے۔جب وہ اسے دوسری چھری سے رگڑتا ہے تو چہ بی صاف ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب تم یہاں آتے ہو تو میں تم سے خدا تعالیٰ کی باتیں کرتا ہوں اور تم بھی مجھ سے خدا تعالیٰ کی باتیں کرتے ہو۔اس طرح وہ چہ بی جو دنیوی باتوں کی وجہ