سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 71
اے ہے جس کی جڑیں زمین میں ہوں اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں اور لوگ اس کے سایہ میں آرام کر سکیں۔کیفیت کی مضبوطی جڑ پر دلالت کرتی ہے اور صرف جڑ کی مضبوطی کافی نہیں۔عمدہ سے عمدہ درخت کا اوپر کا جھاڑ اگر کاٹ دیا جائے تو دنیا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔اسی طرح کسی عمدہ سے عمدہ درخت کی جڑا اگر مضبوط نہ ہوتو وہ بھی دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔یہ دونوں چیزیں نہایت ضروری ہیں۔پس ایک طرف ہماری جماعت کو نیکی تقوی، عبادت گذاری، دیانت ، راستی اور عدل و انصاف میں ایسی ترقی کرنی چاہئے کہ نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی اس کا اعتراف کریں۔اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ، اور لجنہ اماء اللہ کی تحریکات جاری کی ہیں۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ ان میں کہاں تک کامیابی ہوگی۔بہر حال یہی ایک ذریعہ مجھے نظر آیا جو میں نے اختیار کیا اور ان سب کا یہ کام ہے کہ نہ صرف اپنی ذات میں نیکی قائم کریں بلکہ دوسروں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور جب تک حتمی طور پر جبر و ظلم ، تعدی، بددیانتی ، جھوٹ وغیرہ کو نہ مٹا دیا جائے اور جب تک ہر امیر غریب اور چھوٹا بڑا اس ذمہ داری کو محسوس نہ کرے کہ اس کا کام صرف یہی نہیں کہ خود عدل وانصاف قائم کرے بلکہ یہ بھی کہ دوسروں سے بھی کرائے ، خواہ وہ افسر ہی کیوں نہ ہو، ہماری جماعت اپنوں اور دوسروں کے سامنے کوئی اچھا نمونہ قائم نہیں کر سکتی۔اسی طرح اگر جماعت تعداد کے لحاظ سے بھی ترقی نہ کرے تو دنیا فوائد حاصل نہیں کر سکتی۔وہ بادل جو صرف ایک گاؤں پر برس جائے اتنا مفید نہیں ہوسکتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بادل قادیان یا زیادہ سے زیادہ چند بستیوں پر برس جائے اور چند کھیت ہی اس سے فائدہ اٹھا ئیں تو یہ امر یا در کھے جانے کے قابل نہیں ہوگا۔لیکن اگر وہ دنیا کے ہر کھیت کو سیراب کرے اور ہر فرد کو تازگی بخشے تو یہ ایک تاریخ میں یا در کھے جانے کے قابل بات ہوگی اور دنیا ہمارے نام کو عزت اور احترام سے یادر کھے گی۔پس ہمارا سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اس پیغام کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوا دنیا کے کناروں تک پہنچائیں۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارا محکمہ تبلیغ بھی اس کام کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتا۔اس کا زور اتنا ہی ہے