سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 69
۶۹ لوگون نے بغاوت کر کے ملک کو تقسیم کرنا چاہا۔اس کا چھا بھی صاحب اثر ورسوخ تھا۔اس نے الگ بادشاہی کا دعویٰ کر دیا اور بہت سے لوگ اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ایک اس کا سوتیلا بھائی تھا جس کے ماموں بہت طاقتور تھے۔وہ اسے بادشاہ بنانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے اس بھانجے کے نام پر بغاوت کر دی۔ادھر سے اس نے بھی کچھ فوجیں جمع کیں۔گویا تین فوجیں ایک دوسرے کے مقابلہ پر تھیں۔جس دن جنگ ہونے والی تھی اس نوجوان کے وزیر نے جو شیعہ تھا اور جن کا نام نظام الدین طوسی تھا اس سے کہا کہ آپ کے چچا کی طاقت بہت بڑی ہے اور آپ کے بھائی کے ماموں بھی بہت طاقتور ہیں اور انہوں نے بھی بڑی فوج جمع کر لی ہے اور وقت ایسا نا زک ہے کہ ظاہری تدابیر سب پیچ نظر آتی ہیں۔اس وقت علاوہ فوجی طاقت کے آسمان کی مدد بھی آپ کے لئے بہت ضروری ہے۔اس لئے آپ میرے ساتھ حضرت موسیٰ رضا کی قبر پر چل کر دعا کریں کہ ان کے طفیل اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے۔اس کی غرض اس سے یہ تھی کہ اس کے دل پر شیعیت کا اثر ڈالوں۔گبن کہتا ہے کہ مسلمان بے شک کا فر ہیں اور بڑی وحشی قوم ہے۔مگر اس واقعہ کو دیکھ کر شرم کے مارے میرا سر ندامت کے ساتھ جھک جاتا ہے کہ جو عدل وانصاف کا نمونہ اس قوم سے تعلق رکھنے والے ایک نو جوان نے دکھایا۔ہماری قوم کے کسی بوڑھے بادشاہ کی زندگی میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس کا وزیر اسے موسیٰ رضا کی قبر پر لے گیا اور وہ دونوں وہاں جا کر خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی۔دونوں نے اپنے اپنے رنگ میں دعا کی اور دعا کے بعد جب کھڑے ہوئے اور آنسو پونچھے تو اس نوجوان شہزادہ نے وزیر سے سوال کیا کہ تم نے کیا دعا مانگی۔اس نے کہا کہ میں نے یہ دعا مانگی ہے کہ اے خدا تو جانتا ہے کہ یہ شہزادہ تاج وتخت کا حقدار ہے۔ولی عہد ہے۔اس کا باپ مر گیا ہے اور لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔تو اس بزرگ کے طفیل اس پر رحم کر۔یہ سن کر اس نو جوان شہزادہ نے کہا کہ میں نے تو یہ دعانہیں مانگی۔وزیر نے عرض کیا کہ پھر آپ نے کیا دعا مانگی ہے۔اس نے کہا میں نے تو یہ دعا مانگی ہے کہ اے خدا مجھے معلوم نہیں کل کو میں ملک و وطن کے لئے کیسا ثابت ہوں ممکن ہے ظالم ثابت ہوں اور ممکن ہے میری ذات سے ملک کو اور اسلام کو کوئی صدمہ پہنچے اور ممکن ہے میرے چھایا بھائی کے ہاتھوں سے ملک کو اور اسلام کو کوئی فائدہ پہنچے۔اس لئے کل کی جنگ میں تو اسے فتح پیجئیو جس کے ہاتھ سے ملک اور اسلام کو فائدہ پہنچنے والا ہو۔یہ وہ لوگ تھے جن کو اس تمیں سالہ دور عدل وانصاف کی جڑوں سے پھوٹنے والی نئی کونپلیں کہا جاسکتا ہے اور جن کی وجہ سے مسلمانوں کو اتنی لمبی حکومت کا موقعہ ملا۔