سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 68

۶۸ وہاں رہنا نہیں ہوتا اس لے بدنامی کا بھی کوئی خوف ان کو نہیں ہوتا اور اگر کوئی اعلیٰ درجہ کی منتظم حکومت ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتی ہے کہ خاموشی سے فوجوں کو پیچھے ہٹا لیتی ہے اور زیادہ لوٹ مار نہیں کرنے دیتی۔لیکن اس اسلامی لشکر نے جو نمونہ دکھایا، جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے صرف حضرت عمر کے زمانہ میں ہی نظر آتا ہے۔بلکہ افسوس ہے کہ بعد کے زمانہ کو بھی اگر شامل کر لیا جائے تو اس کی کوئی اور مثال دنیا میں نہیں ملتی کہ کسی فاتح نے کوئی علاقہ چھوڑا ہو تو اس علاقہ کے لوگوں سے وصول کردہ ٹیکس اور جزیے اور مالیے واپس کر دیئے ہوں۔اس کا عیسائیوں پر اتنا اثر ہوا کہ باوجود یہ کہ ان کی ہم مذہب فوجیں آگے بڑھ رہی تھیں۔حملہ آور ان کی اپنی قوم کے جرنیلوں ، کرنیلوں اور افسروں پر مشتمل تھے اور سپاہی ان کے بھائی بند تھے اور باوجود اس کے کہ اس جنگ کو عیسائیوں کے لئے مذہبی جنگ بنا دیا گیا تھا، اور باوجود اس کے کہ عیسائیوں کا مذہبی مرکز جوان کے قبضہ سے نکل کر مسلمانوں کے ہاتھ میں جاچکا تھا، اب اس کی آزادی کے خواب دیکھے جارہے تھے۔عیسائی مرد اور عورتیں گھروں سے باہر نکل نکل کر روتے اور دعائیں کرتے تھے کہ مسلمان پھر واپس آئیں۔یہ وہ حکومت تھی جس کے لئے لوگوں کے دلوں سے دعائیں نکلتی تھیں اور آسمان کے فرشتوں نے بھی کہا کہ ان لوگوں کو لمبی حکومت کرنے کا موقعہ دیا جائے۔یہ حکومت تو صرف تمہیں سال تک ہی رہی جو اسلامی اصول کے مطابق قائم تھی مگر اس کی جڑیں اتنی مضبوط تھیں کہ بڑے بڑے ظالم بادشاہوں نے بھی اس کی جڑیں اکھیڑنے کا کام ایک ہزار سال میں کیا اور اتنے طویل عرصہ کے بعد اس کا خاتمہ کر سکے۔دنیا میں بہت کم کسی قوم نے اتنی لمبی حکومت کی ہے جتنی مسلمانوں نے کی۔عیسائی حکومتوں کا زور اٹھارھویں صدی کے آخر میں شروع ہوا ہے۔مگر ابھی ان پر ڈیڑھ ، پونے دوسو سال کا عرصہ ہی گذرا ہے کہ وہ لڑ کھڑا رہی ہیں۔مگر مسلمانوں نے قریباً ایک ہزار سال تک نہایت شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی ہے اور یہ اثر اسی تمیں سالہ اسلامی حکومت کا تھا۔بعد میں گو مسلمانوں میں بھی بعض ظالم اور جابر بادشاہ ہوئے مگر نیکی کی جڑیں قائم رہیں اور ان سے نیک پودے بھی پیدا ہوتے رہے۔جس طرح بعض درخت گو کٹ جاتے ہیں مگر ان کی جڑوں سے نئی روئیدگی پیدا ہوتی رہتی ہے۔اس روئیدگی میں سے صدیوں بعد ایک بادشاہ پیدا ہوا جس کا ذکر عیسائی مورخ گین نے کیا ہے۔وہ عیسائی مورخوں میں سے نسبتا کم متعصب مورخ ہے اور عیسائیت کا بڑا مورخ مانا جاتا ہے اس نے رومی حکومت کی ترقی اور تنزل پر ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ ایک اسلامی بادشاہ ملک ارسلان کا ایک واقعہ بیان کرتا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ وہ ۱۸، ۱۹ سال عمر کا ایک نوجوان شہزادہ تھا، جب اس کا باپ فوت ہوا۔وہ ولی عہد تھا مگر چھوٹی عمر کا تھا۔اس لئے کئی