سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 67

۶۷ جن جماعتوں کی زیادتی دنیا کے لئے مفید ہو اللہ تعالیٰ بھی ان کی بڑھوتی پر خوش ہوتا ہے اور بنی نوع انسان بھی ان کے بڑھنے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔صحابہ نے جس وقت رومی حکومت کے ساتھ مقابلہ کیا اور بڑھتے بڑھتے یروشلم پر ، جو عیسائیوں کی مذہبی جگہ ہے، قابض ہو گئے اور پھر اس سے بھی آگے بڑھنا شروع ہوئے تو عیسائیوں نے یہ دیکھ کر کہ ان کا مذہبی مرکز مسلمانوں کے ہاتھ آگیا ہے، ان کو وہاں سے نکالنے کے لئے آخری جد و جہد کا ارادہ کیا اور چاروں طرف مذہبی جہاد کا اعلان کر کے عیسائیوں میں ایک جوش پیدا کر دیا گیا اور بڑی بھاری فوجیں جمع کر کے اسلامی لشکر پر حملہ کی تیاری کی۔ان کے اس شدید حملہ کو دیکھ کر مسلمانوں نے جو ان کے مقابلہ میں نہایت قلیل تعداد میں تھے۔عارضی طور پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور اسلامی سپہ سالار نے حضرت عمرؓ کولکھا کہ دشمن اتنی کثیر تعداد میں ہے اور ہماری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا اسلامی لشکر کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔اس لئے آپ اگر اجازت دیں تو جنگی صف بندی کوسیدھا کرنے اور محاذ جنگ کو چھوٹا کرنے کے لئے اسلامی لشکر پیچھے ہٹ جائے تا تمام جمعیت کو یکجا کر کے مقابلہ کیا جاسکے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ ہم ان علاقوں سے جو فتح کر رکھے ہیں لوگوں سے ٹیکس بھی وصول کیا ہوا ہے۔اگر آپ ان علاقوں کو چھوڑنے کی اجازت دیں تو یہ بتائیں کہ اس ٹیکس کے متعلق کیا حکم ہے۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ محاذ کو چھوٹا کرنے اور اسلامی طاقت کو یکجا کرنے کے لئے پیچھے ہٹنا اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں۔لیکن یہ یا درکھو کہ ان علاقوں کے لوگوں سے ٹیکس اس شرط پر وصول کیا گیا تھا کہ اسلامی لشکر ان کی حفاظت کرے گا اور جب اسلامی لشکر پیچھے ہٹے گا تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ ان علاقوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ جس سے جو کچھ وصول کیا گیا ہے وہ اسے واپس کر دیا جائے۔جب حضرت عمرؓ کا یہ حکم پہنچا اسلامی سپہ سالار نے ان علاقوں کے زمینداروں اور تاجروں اور دوسرے لوگوں کو بلا بلا کر ان سے وصول کردہ رقوم واپس کر دیں اور ان سے کہا کہ آپ لوگوں سے یہ رقوم اس شرط پر وصول کی گئی تھیں کہ اسلامی لشکر آپ لوگوں کی حفاظت کرے گا۔مگر اب کہ ہم دشمن کے مقابلہ میں اپنے آپ کو کمزور پاتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے عارضی طور پر پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس وجہ سے آپ لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ان رقوم کو اپنے پاس رکھنا درست نہیں۔یہ ایسا نمونہ تھا کہ جو دنیا کی تاریخ میں اور کسی بادشاہت نے نہیں دکھایا۔بادشاہ جب کسی علاقہ سے ہٹتے ہیں تو بجائے وصول کردہ ٹیکس وغیرہ واپس کرنے کے، ان علاقوں کو اور بھی لوٹتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اب تو یہ علاقے دوسرے کے ہاتھ میں جانے والے ہیں، ہم یہاں سے جتنا زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اٹھا لیں۔پھر چونکہ انہوں نے