سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 61

۶۱ سال میں صرف ایک نماز چھوڑی ہے، پھر کیا ہو گیا تو وہ ایک وہم میں مبتلا ہے۔اگر وہ بیس سال میں ایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے۔تو پھر بھی وہ احمدی نہیں کہلا سکتا۔بلکہ جس وقت کوئی شخص کسی نماز کو چھوڑتا ہے اسی وقت وہ احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے اور جب تک دوبارہ اس کے دل میں ندامت اور اپنے فعل پر افسوس پیدا نہ ہو اور جب تک دوبارہ اس کے دل میں دین کی رغبت پیدا نہ ہو۔اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے حضور احمدی نہیں سمجھا جاتا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک جماعت نے نماز کی اس اہمیت کو نہیں سمجھا۔چنانچہ میرے پاس شکائتیں پہنچتی رہی ہیں کہ بعض لوگ نمازوں میں سُست ہیں اور بعض بالکل ہی نہیں پڑھتے۔میں اس نقص کو دیکھتے ہوئے خصوصیت سے قادیان کے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے کہتا ہوں کہ نماز کے متعلق ان میں سے ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اسی طرح جاسوسی کرے جس طرح پولیس مجرموں کی جاسوسی کا کام کیا کرتی ہے۔جب تک رات اور دن ہم میں سے ہر شخص اس طرف متوجہ نہ ہو کہ ہمارا ہر فرد خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، بچہ ہو یا جوان، نما ز با قاعدگی کے ساتھ ادار کرے اور کوئی نماز بھی نہ چھوڑے۔اس وقت تک ہم کبھی بھی اپنے اندر جماعتی روحانیت قائم نہیں کر سکتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں۔مثلاً میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ نمازوں کے وقت دوکانیں کھلی نہیں ہونی چاہئیں۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی دوکان کھلی بھی رہے اور پھر اس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ نماز با جماعت بھی ادا کرتا ہے۔پس میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نمازوں کے وقت دوکانداروں کی نگرانی رکھیں اور جس شخص کی دوکان کھلی ہو، اس کی دوکان پرنشان لگادیں اور اسی دن اس کی میرے پاس رپورٹ کریں۔اگر نمازوں کے وقت کوئی شخص اپنی دوکان کو کھلا رکھتا ہے تو اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ اس کے دل میں نماز کا احترام نہیں۔اس وقت بہر حال ایک احمدی کہلانے والے کو اپنی دوکان بند کرنی چاہئے اور نماز با جماعت کے لئے مسجد میں جانا چاہئے۔اگر خطرہ ہو کہ دوکانیں بند ہوئیں تو کوئی دشمن نقصان نہ پہنچاوے۔تو ایسی صورت میں باری باری پہرے مقرر ہو سکتے ہیں۔مگر یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ دوکاندار اپنی دوکانوں پر ہی بیٹھے رہیں اور نماز کے لئے مسجد میں نہ جائیں۔پہرہ ایک قومی فرض ہے اور جب کوئی شخص پہرے پر ہوتو وہ اپنے فرض کو ادا کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔نماز کا تارک نہیں سمجھا جاتا۔لیکن بغیر اس کے اگر کوئی شخص مسجد میں نہیں جاتا تو