سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 60
نماز با جماعت کے قیام کے سلسلے میں مجلس انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی ذمہ داری سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں پھوڑے کی وجہ سے نماز کے لئے تو نہیں آسکتا۔کیونکہ پیٹ پر پھوڑا ہے اور اس وجہ سے مجھے بیٹھ کر نماز پڑھنی پڑتی ہے۔لیکن جمعہ کی وجہ سے میں آج آ گیا ہوں اور مختصر طور پر جماعت قادیان کو خصوصاً اور بیرونی جماعتوں کو عموماً اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ احمدیت ایک مذہب ہے کوئی سوسائٹی یا انجمن نہیں ہے، جو اپنے لئے چند قانون بنا کر باقی امور میں لوگوں کو آزاد چھوڑ دیتی ہے۔بلکہ مذہب ہونے کے لحاظ سے اس کی بنیا د انسان اور خدا کے تعلق پر ہے۔اگر احمدیت ، اللہ تعالٰی اور اس کے بندوں کے تعلق کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ کامیاب ہے۔خواہ اس کے ماننے والوں کی تعداد کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو اور اگر خدا اور اس کے بندوں کا تعلق قائم کرنے میں احمدیت کامیاب نہ ہو، تو خواہ ساری دنیا احمدی کیوں نہ ہو جائے احمدیت کامیاب نہیں کہلا سکتی اور اللہ اور اس کے بندے کے تعلق کی پہلی نشانی بندے کے دل میں عبادت کی ترپ کا پیدا ہونا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تڑپ لوگوں کے دلوں میں نہ ہو تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں اور دوسرے معنے اس کے یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کے دل میں بھی ان کی محبت نہیں ہے۔میں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ نماز ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انسان نماز نہ پڑھے، یا اس کو التزام کے ساتھ ادا کرنے میں غفلت سے کام لے تو پھر بھی وہ مسلمان اور احمدی رہ سکتا ہے۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو چھوڑ دینے کی وجہ سے انسان کمزور کہلاتا ہے۔مگر نماز ایسی چیز ہے کہ اس کو چھوڑ دینے کی وجہ سے وہ کچھ بھی نہیں کہلا سکتا۔ایک شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور پھر نماز نہیں پڑھتا اور نماز نہ پڑھنے کے یہی معنے نہیں کہ وہ کبھی نماز نہیں پڑھتا، بلکہ سال بھر میں اگر وہ ایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے یا دس سال میں وہ ایک نماز کو بھی ترک کر دیتا ہے، تو وہ کسی صورت میں احمدی نہیں کہلا سکتا۔اگر اس کو یہ خیال ہو کہ میں نے ہیں