سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 59
۵۹ طرح معافی دیتی ہو یا ملا ہواں چھل، یعنی کھال ادھیڑوں۔وہ سمجھ گئیں کہ بس اب یہ بگڑ گئے ہیں۔جھٹ سے کہنے لگیں کہ نہیں ہم تو یونہی کہ رہی تھیں۔آپ کی مار تو ہمارے لئے پھولوں کی طرح ہے۔ہندوستان میں عورتوں کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔کتے کو اس طرح نہیں مارا جاتا ، بیلوں اور جانوروں کو بھی اس طرح نہیں مارا جاتا ، جس طرح عورتوں کو مارا جاتا ہے اور عورتوں کے ساتھ ان کے اس سلوک کا یہ نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عورتوں کی پوزیشن دے دی ہے۔جب عورت کی عزت نہ کی جائے تو اولاد کے دل میں بھی خساست پیدا ہوتی ہے۔باپ خواہ سید ہو۔لیکن اگر اس کی ماں کی عزت نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو انسان کا بچہ نہیں بلکہ ایک انسان اور حیوان کا بچہ سمجھتا ہے اور اس طرح وہ بزدل بھی ہو جاتا ہے۔پس عورتوں کی عزت قائم کرو۔اس کا نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ تمہارے بچے اگر گیدڑ ہیں تو وہ شیر ہو جائیں گے۔يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے بعد ایمان وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ (سورة البقرة آیت ۵) کا حکم ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ دوسروں کے بزرگوں کا جائز ادب اور احترام کرو۔گویا اس میں صلح کی تعلیم دی گئی ہے پھر اس میں یہ بھی تعلیم ہے کہ تبلیغ میں نرمی اور سچائی کا طریق اختیار کرو۔آخری چیز یقین بالاخرت ہے اس کے معنے دو ہیں۔ایک تو مرنے کے بعد زندگی کا یقین ہے۔بعض دفعہ انسان کو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں مگر ایمان بالغیب کی طرف اس کا ذہن نہیں جاتا۔اس وقت اس بات سے ہی اس کی ہمت بندھتی ہے کہ میری اس قربانی کا نتیجہ اگلے جہان میں نکلے گا۔پھر اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ انسان ایمان رکھے کہ خدا تعالیٰ مجھے پر بھی اسی طرح کلام نازل کر سکتا ہے جس طرح اس نے پہلوں پر کیا۔اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ سے محبت وہی کر سکتا ہے جو یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ میری محبت کا صلہ مجھے ضرور دے سکتا ہے۔جس کے دل میں یہ ایمان نہ ہو وہ خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتا۔یہ چھ کام ہیں جو انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے ذمہ ہیں۔ان کو چاہئے کہ پوری کوشش کر کے جماعت کے اندران امور کو رائج کریں تا کہ ان کا ایمان صرف رسمی ایمان نہ رہے۔بلکہ حقیقی ایمان ہو جو انہیں اللہ تعالیٰ کا مقرب بنادے اور وہ غرض پوری ہو جس کے لئے میں نے اس تنظیم کی بنیا درکھی ہے۔اقتباس از تقریر جلسہ سالانہ ۲۷۔دسمبر ۱۹۴۱ء۔بحوالہ الفضل ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۰ء ص ۲ تا ۵)