سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 51
۵۱ بات کرو، اندر سے کھوکھلا معلوم ہوتا ہے اور سب ڈر رہے ہیں کہ معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔کجا تو سات سو میں اتنی جرات تھی اور کجا آج سات کروڑ بلکہ دنیا میں چالیس کروڑ مسلمان ہیں مگر سب ڈر رہے ہیں اور یہ ایمان کی کمی کی وجہ سے ہے۔جس کے اندر ایمان ہوتا ہے، وہ کسی سے ڈر نہیں سکتا۔ایمان کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ آپ گورداسپور میں تھے۔میں وہاں تو تھا مگر اس مجلس میں نہ تھا جس میں یہ واقعہ ہوا۔مجھے ایک دوست نے جو اس مجلس میں تھے بتایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور بعض دوسرے احمدی بہت گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ فلاں مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ ہے لاہور گیا تھا۔آریوں نے اس پر بہت زور دیا کہ مرزا صاحب ہمارے مذہب کے سخت مخالف ہیں۔ان کو ضرور سزا دے دو۔خواہ ایک ہی دن کی کیوں نہ ہو۔یہ تمہاری قومی خدمت ہوگی اور وہ ان سے وعدہ کر کے آیا ہے کہ میں ضرور سزا دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو آپ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر آپ کہنی کے بل ایک پہلو پر ہو گئے اور فرمایا خواجہ صاحب آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔کیا کوئی خدا تعالیٰ کے شیر پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مجسٹریٹ کو یہ سزا دی کہ پہلے تو اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا اور پھر اس کا تنزل ہو گیا یعنی وہ ای۔اے سی سے منصف بنادیا گیا اور فیصلہ دوسرے مجسٹریٹ نے آکر کیا۔تو ایمان کی طاقت بڑی زبردست ہوتی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس جماعت میں نئے لوگوں کے شامل ہونے کا اس صورت میں فائدہ ہوسکتا ہے کہ شامل ہونے والوں کے اندر ایمان اور اخلاص ہو۔صرف تعداد میں اضافہ کوئی خوشی کی بات نہیں۔اگر کسی کے گھر میں دس سیر دودھ ہو تو اس میں دس سیر پانی ملا کر وہ خوش نہیں ہو سکتا کہ اب اس کا دودھ نہیں سیر ہو گیا ہے۔خوشی کی بات یہی ہے کہ دودھ ہی بڑھایا جائے اور دودھ بڑھانے میں ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔جو قو میں تبلیغ میں زیادہ کوشش کرتی ہیں ان کی تربیت کا پہلو کمزور ہو جایا کرتا ہے اور ان مجالس کا قیام میں نے تربیت کی غرض سے کیا ہے۔چالیس سال سے کم عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ اور چالیس سال سے اوپر عمر والوں کے لئے انصار اللہ اور عورتوں کے لئے لجنہ اماء اللہ ہے۔ان مجالس پر دراصل تربیتی ذمہ داری ہے۔یا درکھو کہ اسلام کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شعر لکھ رہے تھے۔ایک مصرعہ آپ نے لکھا کہ