سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 44

۴۴ غیر احمدیوں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آدمی کھینچے اس کا سینٹر واں حصہ بھی کوئی مخالف ہم میں سے لوگوں کو لے گیا۔اگر نہیں تو کامیاب وہ کس طرح ہو گئے ؟ کامیاب تو وہی ہوا جوا کیلا اٹھا اور لاکھوں کو اس نے اپنے ساتھ ملا لیا۔پھر اگر کوئی برگشتہ بھی ہوا خدا نے اس کی جگہ ہمیں کئی مخلصین دے دئے۔قرآن کریم خود بچے سلسلہ کی صداقت کا معیار بیان فرماتا ہے کہ اگر اس میں سے ایک شخص بھی مرتد ہوتا ہے تو اس کی جگہ ہم ایک قوم کو لے آتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔پس یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔کیونکہ ہم تھوڑے ہو کر جیتتے چلے جاتے ہیں۔آخری زمانہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام امرتسر شریف لے گئے تو بڑی سخت مخالفت ہوئی اور لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے۔ان دنوں امرتسر میں ہماری جماعت کے ایک دوست تھے جو کچھ پڑھے لکھے تو نہیں تھے مگر یوں سمجھ دار آدمی تھے۔پرانے زمانہ میں ایک دستور تھا جسے شاید آج کل کے احمدی نہ جانتے ہوں اور وہ یہ کہ جب لڑکے والے لڑکی لینے جاتے تھے تو جو مستورات لڑکی والوں کے گھر میں اکٹھی ہوتی تھیں وہ لڑکے والے کو خوب گالیاں دیا کرتی تھیں۔ان گالیوں کو پنجابی میں سٹھنیاں کہا کرتے تھے۔وہ خیال کرتی تھیں کہ ان سٹھنیوں سے نکاح بابرکت ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب امرتسر تشریف لے گئے تو وہاں کے ایک رئیس محمد شریف صاحب کے ہاں ٹھہرے جو کشمیری خاندان میں سے تھے۔لوگوں کو جب آپ کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کو خوب گالیاں دیں، سیاپے کئے اور جہاں آپ ٹھہرے ہوئے تھے وہاں بھی آکر گالیاں دیتے رہے۔جب آپ وہاں سے تشریف لے آئے تو کسی مخالف نے اس احمدی سے کہا کہ دیکھا تمہارے مرزا کو کیسی گالیاں ملیں۔وہ کہنے لگا گالیوں کا کیا ہے آخر تم میں سے ہی اتنے آدمیوں نے بیعت بھی تو کی ہے؟ رہا گالیاں سوان کا کیا ہے۔سٹھنیاں تو تم نے دینی ہی تھیں کیونکہ مرزا صاحب تمہارے آدمی جو لے گئے۔تو جو قوم خدا تعالیٰ کی برکت کے نیچے ہوتی ہے وہ لوگوں کو کھینچے چلی جاتی ہے۔ہم دوسروں کے مقابلہ میں مال و دولت اور تعداد کے لحاظ سے بہت کمزور ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ اسلام کے میدان میں ہمارا اس قدر رعب ہے کہ چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے ایک کمیٹی اس غرض کے لئے بٹھائی گئی تھی کہ وہ یہ تحقیق کرے کہ افریقہ میں عیسائیت کی ترقی کیوں رک گئی ہے۔اس کمیٹی نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس میں سات مقامات پر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ احمدی اب لوگوں کو عیسائی نہیں ہونے دیتے بلکہ جو عیسائی ہو چکے ہیں ان کو بھی ہم سے چھین کر لے جاتے ہیں۔چرچ آف انگلینڈ کی سالانہ آمد ساٹھ کروڑ روپیہ تک ہے مگر ہمیں ہزاروں روپے بھی بمشکل میسر آتے