سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 217

۴۵ ۱۵۹ ۱۳۶ ۱۲۳ ۷۵ ۴۶ خلافت اگر تم نے خلافت کو قائم رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کر سکے گی۔دوسروں کے دلائل سے آگاہ رکھیں۔دین جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے دین کی تائید اور نصرت اگر تم نے خلافت کے نظام کو توڑ دیا تو تمہاری کوئی کے لئے عزم کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔یہ صرف خلافت ہی کی برکت تھی جس نے احمدیوں کو ایک نظام میں پرو دیا۔نظام ہی کا دوسرا نام خلافت ہے۔۱۱۶ ۱۱۷ ۱۴۹ مدد کرتے ہیں۔ذکر الہی آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الہی کی تلقین کرتے رہنا خلافت خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے چاہیئے۔اور اس نے خود دینی ہے۔دعا دعاؤں کے ساتھ انسان کا اپنا ارادہ اور امنگ بھی ۱۲۰ رویا جس جماعت میں صاحب رویا و کشوف زیادہ ہوں شامل ہونی چاہیئے۔۹۳ مضبوط ہوتی ہے۔زكوة دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے کام کو تا قیامت زندہ رکھو۔۱۹۳ انسان کے نفس کی پاکیزگی اور اس کے قلب کے تزکیہ پس دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ کے حضور میں اتنا گڑ گڑا ؤ کے لئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔اور اتنی کوششیں کرو کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سچائی اگر ہمارے پاس سچائی ہے تو ہمیں مخالف کی کس بات کا خوف ہو سکتا ہے۔۱۹۴ سے تمہاری مدد کے لئے اُتر آئیں۔دلیل اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر مسلمان دلائل اور شواہد کی بناء جب تک کسی قوم میں سچائی قائم رہتی ہے وہ ہارا نہیں پر اپنے تمام اعتقادات رکھے۔جو قوم کسی بات کو بے دلیل مان لیتی ہے وہ کبھی برکت حاصل نہیں کر سکتی۔برکت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو با دلیل مانے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو ۳۸ ۳۹،۳۸ ۳۹ ۱۸۲،۱۷۱ کرتی۔صحابة صاحبہ کی پانچ ذمہ داریاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متابعت میں سارے کام کرتے تھے۔۱۳ ۱۴