سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 209
۲۰۹ کو اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔عیسائیت کا فتنہ کوئی معمولی فتنہ نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم سے لے کر اب تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا ، جس نے اپنی امت کو دجال کے فتنہ سے نہ ڈرایا ہو۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اتنے بڑے فتنہ کے ہوتے ہوئے ہماری جماعت کس طرح آرام کی نیند سو سکتی ہے اور کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں وہ اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر سکتی ہے۔جب کسی کے گھر میں آگ لگ جاتی ہے تو لوگ بیٹھ کر گپیں ہانکنے نہیں لگ جاتے بلکہ پا گلا نہ طور پر ادھر ادھر دوڑنے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر یہی احساس ہماری جماعت کے اندر بھی موجود ہو تو کفر وشرک کی آگ جو اس وقت دنیا کو جلا کر خاکستر کر رہی ہے۔اس کو بجھانے کے لئے آپ لوگوں کے اندر کیوں بے تابی پیدا نہ ہو۔پس میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ وقت کی نزاکت کو سمجھو اور اس جہاد کی طرف آؤ جس سے بڑا جہاد اس زمانہ میں اور کوئی نہیں۔آج ایک بہت بڑی روحانی جنگ دنیا میں لڑی جارہی ہے اور اسلام کے مقابلہ میں ایک بڑا بھاری فتنہ سر اٹھائے ہوئے ہے۔ہماری تو راتوں کی نیند بھی اس فکر میں اڑ جانی چاہئے اور ہمیں اپنے تمام پروگرام اس نقطہ کے ارد گر د مرکز کرنے چاہئیں۔بے شک تزکیہ نفس بھی ایک بڑی ضروری چیز ہے اور دعاؤں اور ذکر الہی سے کام لینا بھی ہر مومن کا فرض ہے مگر تبلیغ اسلام ایک نہایت وسیع اور عالمگیر نیکی ہے، جس میں حصہ لینے والا تزکیہ نفس اور دعاؤں اور ذکر الہی کی دولت سے بھی محروم نہیں رہے گا۔پس دجالی فتنہ کے مقابلہ کے لئے اجتماعی کوشش کرو۔اپنے اموال کی ہمیشہ قربانی کرتے رہو اور اپنے اوقات کو اس غرض کے لئے وقف کرو تا کہ اسلام دنیا میں غالب آئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دنیا کے کونہ کونہ میں قائم ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے خیر و برکت کا موجب بنائے اور آپ کو اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور وقت کے تقاضوں کو صحیح رنگ میں شناخت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ لوگوں میں ایسا جذب روحانی اور اخلاص پیدا کرے کہ آپ لاکھوں لاکھ لوگوں کو احمدیت میں داخل کرنے کا موجب بن جائیں تا کہ قیامت کے دن ہم شرمندہ نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں اور خطاؤں کو معاف فرماتے ہوئے اپنی رحمت کی چادر میں ہمیں چھپالے اور اپنے دین کے بچے اور جاں