سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 188
۱۸۸ بھی مدینہ میں ہی رہے ، مکہ واپس نہیں گئے۔قادیان مکہ سے بڑھ کر نہیں جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔اگر چہ ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ قادیان ہمیں واپس ملے گا اور ایک مومن کو یہی امید رکھنی چاہئے کہ قادیان ہمیں واپس ملے گا اور وہی ہمارا مرکز ہو گا لیکن انہیں یا درکھنا چاہئے کہ عملاً ہمارا مرکز وہی ہو گا جہاں ہمیں خدا تعالیٰ رکھنا چاہتا ہے۔پس ہمیں اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے کاموں کو وسیع کرنا چاہئے اور اس بات کو نظر انداز کر کے کہ ہم نے قادیان واپس جاتا ہے اپنا کام کرتے چلے جانا چاہئے۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ اگر ہمیں تار بھی آ جائے کہ آؤ اور قادیان میں بس جاؤ۔تو بھی تمہیں شام تک کام کرتے چلے جانا چاہئے تا یہ پتہ لگے کہ ہمیں کام سے غرض ہے۔ہمیں قادیان سے کوئی غرض نہیں۔ہمیں ربوہ سے کوئی غرض نہیں۔اگر ہمیں خدا تعالیٰ لے جائے تو ہم وہاں چلے جائیں گے، ورنہ نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے نوکر ہیں کسی جگہ کے نو کر نہیں۔اگر ہم کسی جگہ سے محبت کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اسے عزت دی ہے۔پس مومن کو اپنے کاموں میں سست نہیں ہونا چاہئے۔پھر نو جوانوں کی عمر تو کام کی عمر ہے انہیں اپنے کاموں میں بہت چست رہنا چاہئے۔( خطاب فرموده ۱/۵اپریل ۱۸۹۲ء۔بحوالہ الفضل ۲۰ فروری ۱۹۲۶ء صفحہ ۷ اور ۸)