سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 177
122 قدر کوشش ضروری ہوتی ہے اسے خدا تعالیٰ پورا کر دیتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔جو مقروض ہماری قوم کا مرجائے اس کے قرض کے ہم ذمہ دار ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ مقروض اپنے گھر میں مال چھوڑ کر مر جائے تو اس کی ذمہ داری قوم پر پڑتی ہے بلکہ یہ ہے کہ اس نے جو کچھ کہ اس کے پاس تھا دے دیا مگر پھر بھی قرض باقی رہا، اس کی ذمہ داری رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لی ہے۔یعنی باقی جو قرض رہ گیا ، اس کی ادائیگی کے ہم ذمہ دار ہیں۔یہی حال دین کے معاملہ میں خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں کے متعلق ہوتا ہے۔جو جماعت اپنی ساری طاقت خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور خدمت کے لئے صرف کر دیتی ہے، اسے باقی مددخود خدا تعالیٰ دیتا ہے۔پس اگر امت مسلمہ مسلمان مقروض کے قرض کی ذمہ دار ہو سکتی ہے تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی کمی پورا کرنے کا بہت زیادہ ذمہ دار ہے۔وہ اپنے ان بندوں کی کامیابی کے جو اپنی ساری طاقت اس کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں خود سامان پیدا کر دیتا ہے۔پس خطرہ کی بات یہ نہیں کہ ہم تھوڑے اور کمزور ہیں۔بلکہ یہ ہے کہ جتنی کوشش اور سعی ہم کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں یا نہیں۔پھر یہ بھی سوال نہیں کہ ہمیں فتح حاصل ہوگی یا نہیں کیونکہ اس کا فیصلہ خود خدا تعالیٰ نے کر دیا ہے۔دنیا میں بڑے بڑے راجے، مہاراجے ، نواب اور بادشاہ موجود ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے دین کی خدمت اور اشاعت کے لئے ان کے دل میں جوش پیدا کر سکتا اور انہیں اس کام کے لئے کھڑا کر سکتا تھا۔مگر اس نے ان کی بجائے تم کو کھڑا کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس کام کی قوت تم میں موجود ہے۔تم میں اتنی طاقت ہے کہ اس کے ذریعہ اسلام کو فتح حاصل ہوسکتی ہے۔پس جو شخص بھی احمدیت میں داخل ہوتا ہے وہ اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ اس میں طاقت ہے اسلام کی کامیابی اور فتح میں حصہ لے سکے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارے وہم وگمان میں بھی یہ بات آسکے کہ خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان کام ایک جماعت کے سپرد کرے، مگر اس جماعت میں وہ کام کرنے کی طاقت اور قابلیت موجود نہ ہوا اور وہ اس کی اہل ہی نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے، اگر مجھے چالیس مومن مل جائیں تو میں دنیا کو فتح کر سکتا ہوں۔مگر ہماری جماعت تو اس وقت لاکھوں کی ہے۔معلوم ہوا کہ اس وقت تک طاقت کے لحاظ سے نہیں بلکہ قربانی کے لحاظ سے کمی ہے، ورنہ تعداد کے لحاظ سے تو پہلے دن جب بیعت