سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 161
۱۶۱ میں بیٹھ بیٹھ کے خلافت لی تھی لیکن تم زور سے لینا چاہتے ہو۔اس طرح کام نہیں بنے گا۔تم اپنے باپ کی طرح جو تیوں میں بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو۔اس پر وہ چپ کر گیا اور میری اس بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ہم نے خود حضرت خلیفہ اول کو دیکھا ہے۔آپ مجلس میں بڑی مسکنت سے بیٹھا کرتے تھے۔ایک دفعہ مجلس میں شادیوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ڈپٹی محمد شریف صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں، سناتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے یعنی آپ نے اپنے گھٹنے اٹھائے ہوئے تھے اور سر جھکا کر گھٹنوں میں رکھا ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔مولوی صاحب جماعت کے بڑھنے کا ایک ذریعہ کثرت اولا د بھی ہے۔اس لئے میرا خیال ہے کہ اگر جماعت کے دوست ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو اس سے بھی جماعت بڑھ سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے گھٹنوں پر سے سر اٹھایا اور فرمایا۔حضور میں تو آپ کا حکم ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن اس عمر میں مجھے کوئی شخص اپنی لڑکی دینے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہنس پڑے۔تو دیکھو یہ انکسار اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ رتبہ ملا۔اب با وجود اس کے کہ آپ کی اولاد نے جماعت میں فتنہ پیدا کیا ہے لیکن اب بھی جماعت آپ کا احترام کرنے پر مجبور ہے اور آپ کے لئے دعائیں کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں اس انکسار اور محبت کی ، جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھی وہ عظمت ڈالی ہے کہ باوجود اس کے کہ آپ کے بیٹوں نے مخالفت کی ہے۔پھر بھی ان کے باپ کی محبت ہمارے دلوں سے نہیں جاتی۔پھر بھی ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یا در کھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے کیونکہ انہوں نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا، جب ساری دنیا آپ کی مخالف تھی۔اسی طرح آج کل ضلع جھنگ کے بعض نئے احمدی ہوئے ہیں۔ان میں سے ایک مولوی عزیز الرحمن صاحب ہیں جو عربی کے بڑے عالم ہیں اور ان کا ایک عربی قصیدہ الفضل میں بھی چھپ چکا ہے۔ان کے والد جو اپنے بیٹے کی طرح عالم نہیں ، وہ یہاں آئے۔وہ کہیں جارہے تھے تو کسی نے میاں عبدالمنان کو آتا دیکھ کر انہیں بتایا کہ وہ میاں عبدالمنان ہیں۔اس پر وہ دوڑتے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور کہنے لگے میاں۔تیرے باپ کو اس در سے خلافت ملی تھی اب تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو بھاگ رہا ہے۔پھر پنجابی میں کہا کہ جا اور جا کر معافی مانگ۔عبدالمنان نے کہا۔بابا جی میں نے تو معافی مانگی تھی۔وہ کہنے لگے اس طرح نہیں۔تو جا کر ان کی دہلیز پر بیٹھ جا اور وہاں سے ہل نہیں۔تجھے دھکے مار کر بھی وہاں سے نکالنا چاہیں تو اس وقت تک نہ اٹھ ،