سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 160

17۔اس نے بتایا کہ میں میاں عبدالمنان صاحب کی حجامت بنانے گیا تو انہوں نے کہا کیا تم ڈر گئے تھے کہ حجامت بنانے نہ آئے یا تمہیں کسی نے روکا تھا۔میں نے کہا مجھے تو کوئی ڈر نہیں اور نہ کسی نے مجھے روکا ہے۔حجامت بنانا تو انسانی حق ہے اس سے مجھے کوئی نہیں روکتا اس لئے میں آگیا ہوں۔پھر میں نے کہا میاں صاحب میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں کہ پشاور سے ایک احمدی قادیان میں آیا اور وہ میاں شریف احمد صاحب سے ملنے کے لئے ان کے مکان پر گیا۔اتفاقاً میں بھی اس وقت حجامت بنانے کے لئے ان کے دروازہ پر کھڑا تھا۔ہمیں معلوم ہوا کہ میاں صاحب اس وقت سور ہے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ میں تو حجامت بنانے کے لئے آیا ہوں انہیں اطلاع دے دی جائے لیکن وہ دوست مجھے بڑے اصرار سے کہنے لگے کہ ان کی نیند خراب نہ کریں لیکن میں نے نہ مانا اور میاں صاحب کو اطلاع بھجوا دی۔جس پر انہوں نے مجھے بھی اور اس دوست کو بھی اندر بلا لیا۔وہاں ایک چارپائی پڑی ہوئی تھی۔میں نے انہیں کہا کہ اس پر بیٹھ جائیے۔کہنے لگے میں نہیں بیٹھتا۔میں نے سمجھا کہ شاید یہ چار پائی پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔اس لئے میں ان کے لئے کرسی اٹھا لیا لیکن وہ کرسی پر بھی نہ بیٹھے اور دروازہ کے سامنے جہاں جو تیاں اُتار کر رکھی جاتی ہیں وہاں پائیدان پر جا کر بیٹھ گئے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا کیا ؟ میں نے چار پائی دی لیکن آپ نہ بیٹھے۔پھر کرسی دی تب بھی آپ نہ بیٹھے اور ایک ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے جہاں بوٹ وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔کہنے لگے میں تمہیں ایک قصہ سناؤں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صحابی ہوں۔میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو ملنے کے لئے آیا۔آپ مسجد مبارک میں بیٹھے تھے اور دروازہ کے پاس جو تیاں پڑی تھیں۔ایک آدمی سیدھے سادھے کپڑوں والا آ گیا اور آ کر جوتیوں میں بیٹھ گیا۔میں نے سمجھا یہ کوئی جوتی چور ہے۔چنانچہ میں نے اپنی جوتیوں کی نگرانی شروع کر دی کہ کہیں وہ لے کر بھاگ نہ جائے۔کہنے لگے اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے اور میں نے سنا کہ آپ کی جگہ کوئی اور شخص خلیفہ بن گیا ہے۔اس پر میں بیعت کرنے کے لئے آیا۔جب میں نے بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ وہی شخص تھا جس کو میں نے اپنی بیوقوفی سے جوتی چور سمجھا تھا، یعنی حضرت خلیفہ اسی اول اور میں اپنے دل میں سخت شرمندہ ہوا۔آپ کی عادت تھی کہ آپ جو نتیوں میں آ کر بیٹھ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آواز دیتے تو آپ ذرا آگے آ جاتے۔پھر جب کہتے مولوی نورالدین صاحب نہیں آئے تو پھر کچھ اور آگے آجاتے۔اس طرح بار بار کہنے کے بعد کہیں وہ آگے آتے تھے۔یہ قصہ سنا کر میں نے انہیں کہا۔میاں آپ کے باپ نے جوتیوں