سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 159

۱۵۹ خدا تعالیٰ کے دین کی تائید اور نصرت کے لئے عزم کر لیتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں۔میں نے پچھلے ماہ خواب میں دیکھا تھا کہ آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں، جو قرآن شریف میں یہودیوں اور منافقوں کے لئے آئی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ سے نکل جائیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل کر مسلمان سے لڑائی کریں گے لیکن قرآن کریم منافقوں سے فرماتا ہے کہ نہ تم یہودیوں کے ساتھ مل کر مدینہ سے نکلو گے اور نہ ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑو گے، یہ دونوں جھوٹے دعوے ہیں اور صرف یہودیوں کی انگیخت کرنے کے لئے اور فساد پر آمادہ کرنے کے لئے ہیں۔اب دیکھو وہی کچھ ہو رہا ہے۔جو خدا تعالیٰ نے مجھے رویاء میں بتایا تھا۔ایک طرف یہ منافق معافی مانگتے ہیں اور پھر اخبار میں شائع کرا دیتے ہیں کہ ہم نے تو معافی نہیں مانگی۔اگر انہوں نے واقعہ میں کوئی معافی نہیں مانگی تھی تو غیر احمدی اخبارات نے یہ کیوں لکھا تھا کہ دیکھو کتنا ظلم ہورہا ہے۔ان لوگوں کی معافی مانگتے مانگتے ناکیں بھی رگڑی گئی ہیں لیکن انہیں معافی نہیں ملتی۔اگر وہ بعد میں معافی کا انکار نہ کرتے ، تو جماعت کے کئی کمز ور لوگ کہتے کہ جب یہ معافی مانگتے ہیں تو انہیں معاف کر دیا جائے لیکن انہوں نے پہلے خود معافی مانگی، پھر ڈر گئے اور سمجھا کہ کہیں غیر احمدی یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ اب ڈر گئے ہیں اور اس طرح ان کی مدد سے محروم نہ ہو جائیں۔اس لئے انہوں نے پھر لکھ دیا کہ ہم نے تو معافی نہیں مانگی۔مگر اس جھوٹ کے نتیجہ میں وہی مثال ان پر صادق آئے گی جو کسی لڑکے کے متعلق مشہور ہے کہ وہ بھیڑیں چرایا کرتا تھا۔ایک دن اسے گاؤں والوں سے مذاق سوجھا تو اس نے پہاڑی پر چڑھ کر شور مچا دیا کہ شیر آیا۔شیر آیا۔گاؤں کے لوگ لاٹھیاں لے کے اس کی مدد کے لئے آئے لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں شیر وغیرہ کوئی نہیں تھا۔لڑکے نے انہیں بتایا کہ اس نے ان سے یونہی مذاق کیا تھا۔دوسرے دن وہ بھیڑیں چرا رہا تھا تو واقع میں شیر آ گیا اور لڑکے نے پہاڑی پر چڑھ کر شور مچایا کہ شیر آیا۔شیر آیا۔لیکن گاؤں سے اس کی مدد کے لئے کوئی نہ آیا۔انہوں نے سمجھا کہ لڑکا کل کی طرح آج بھی مذاق کر رہا ہوگا۔چنانچہ شیر نے اسے پھاڑ کر کھا لیا۔اسی طرح جب غیر احمد یوں کو محسوس ہوا کہ یہ لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہیں تو وہ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور یہ لوگ اپنی آنکھوں سے اپنی ناکامی کا مشاہدہ کریں گے۔آج ہی مجھے میرے نائی نے ایک لطیفہ سنایا۔