سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 158

۱۵۸ منافقوں کا پتہ لگ گیا ہے اور آج ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے شیطان کو مار دیا ہے اور اسے نئے نئے طریقوں سے جماعت کے اند رفتنہ پیدا کرنے سے روک دیا ہے۔آپ کے اس بات کو شائع کر دینے سے جماعت کے اندر ایک نئی روح اور نئی امنگ پیدا ہو گئی ہے اور اب ہر احمدی خلافت کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔اگر آپ وقت پر اعلان نہ کرتے ، آپ لحاظ کر جاتے اور چپ کر جاتے تو یہ فتنہ بہت بڑھ جاتا۔آپ نے بہت بڑے بڑے کام کئے ہیں۔تبلیغ اسلام کا کام کیا ہے، غیر ممالک میں مساجد بنائی ہیں۔مگر مجھے یقین ہے کہ آپ کا موجودہ فتنہ کو دبا لیتا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔کیونکہ اس کے ذریعہ آپ نے جماعت کو محفوظ کر دیا ہے اور جماعت کے اندر ایک نئی بیداری اور جوش پیدا ہو گیا ہے۔پہلے یہ بات نہیں تھی۔پہلے جماعت کے اندرستی پائی جاتی تھی اور ہم سمجھتے تھے کہ ہم بالکل محفوظ ہیں۔اگر یہ فتنہ یکدم پھیل جاتا تو جماعت غفلت میں بیٹھی رہتی اور فتنہ پرداز اسے نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے لیکن آپ نے ادھر فتنہ پیدا ہوا اور ادھر اعلان شائع کر کے، جماعت کو وقت پر بیدار کر دیا۔چنانچہ اب وہ اس فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر طرح تیار ہے۔اگر آپ وقت پر جماعت کو بیدار نہ کر دیتے تو ان لوگوں نے جماعت کو پیغامیوں کی جھولی میں ڈال دینا تھا اور وہ ساری کوشش جو آپ کی ، نبوت اور ماموریت کی سچائی کے لئے ۴۲ سال تک کی گئی تھی ، ضائع ہو جانی تھی۔مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر ہوشیار کر دیا اور با وجود اس کے کہ وہ بات بظاہر چھوٹی نظر آتی تھی اور بعض احمدی بھی خیال کرتے تھے کہ یہ معمولی بات ہے۔آپ نے اس کے ضرر کو نمایاں کر کے دکھایا اور اس طرح تمام احمدی دنیا سمجھ گئی کہ کیا بات ہے اور وہ اس فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئی۔چنانچہ دنیا کے سب ممالک سے جہان جہاں ہماری جماعتیں قائم ہیں مثلاً امریکہ سے، افریقہ سے، دمشق سے، انڈونیشیا سے اور دوسرے تمام ممالک سے مجھے چٹھیاں آ رہی ہیں کہ ہم خلافت سے سچے دل کے ساتھ وابستہ ہیں اور جن لوگوں نے اس فتنہ کو اٹھایا ہے، انہیں منافق خیال کرتے ہیں۔اب وہ ہم میں شامل ہو کر کوئی رتبہ اور فضیلت حاصل نہیں کر سکتے۔اب دیکھو یہ ساری چیزیں خدا تعالیٰ کے نشان کے طور پر ہیں۔اگر اس فتنہ کا مجھے وقت پر علم نہ ہوتا، تو شاید وہ شان پیدا نہ ہوتی جواب ہے۔مگر اب جماعت کے اندر وہی بیداری پیدا ہوگئی ہے جو سن ۴۱ء میں پیدا ہوئی تھی۔آپ لوگ اس وقت جوان تھے ، اب بڑھے ہو چکے ہیں لیکن اس وقت نو جوانوں والا عزم آپ کے اندر دوبارہ پیدا ہو گیا ہے اور پھر جوانوں کے اندر بھی عزم پیدا ہو چکا ہے اور جماعت کا ہر فرد اس بات کے لئے تیار ہے کہ وہ خلافت کے لئے اپنی جان دے دے گالیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچنے دے گا اور جب کوئی شخص