سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 157

۱۵۷ داخل ہوتا ، اس کی لاش شہر میں لائی گئی۔حضرت نظام الدین صاحب نے مریدوں سے فرمایا۔دیکھو میں نے کہا تھا کہ ہنوز دلی دور است کہ ابھی دلی بہت دور ہے۔پھر تین سال ہوئے اس قسم کا ایک واقعہ آپ لوگوں نے بھی دیکھا ہے۔اس وقت احمدیوں کو لاریوں اور گاڑیوں سے کھینچ کھینچ کرا تا را جا تا تھا اور انہیں مارا پیٹا جاتا تھا۔اس وقت میں نے اعلان کیا کہ گھبراؤ نہیں۔میرا خدا میری مدد کے لئے دوڑا چلا آ رہا ہے۔“ چنانچہ تم نے دیکھا کہ تین دن کے اندر اندر نقشہ بدل گیا۔لوگ اس وقت کہہ رہے تھے کہ اب احمدیوں کا پاکستان میں کوئی ٹھکانہ نہیں۔ہر طرف ان میں جوش بھرا ہوا تھا اور نعرے لگ رہے تھے کہ احمدیوں کو قتل کر دو۔اس وقت میں نے کہا کہ میرا خدا میری مدد کے لئے دوڑا آ رہا ہے۔وہ مجھ میں ہے، وہ میرے پاس ہے۔پھر دیکھو میرا خدا میری مدد کے لئے دوڑ کر آیا یا نہیں۔اب سارے مولوی تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ اپنے مطالبات کے تسلیم کروانے میں ناکام رہے ہیں۔اب بھی جماعت میں منافقین نے فتنہ پیدا کیا تو گجرات کے ایک آدمی نے مجھے لکھا کہ مجھ سے ایک منافق نے ذکر کیا کہ ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے خلافت کا سوال بہت پہلے اٹھا دیا۔اب ہمیں احمدیوں کے پاس جانے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔جہاں ہم جاتے ہیں دھتکار دیئے جاتے ہیں۔اگر ہم چپ رہتے اور خاموشی سے کام کرتے تو ہم ہر ایک احمدی کے پاس جا سکتے تھے اور اسے اپنی بات سنا سکتے تھے لیکن اب ہمیں ایسا کرنے کی جرات نہیں۔جس کی وجہ سے ہماری ساری سکیم فیل ہوگئی ہے۔پھر دیکھو میں بیماری کی وجہ سے لمبا عرصہ باہر رہا تھا اور ان منافقین کے لئے موقع تھا کہ وہ میری غیر حاضری میں شور مچاتے لیکن خدا تعالیٰ نے انہیں دبائے رکھا اور جب میں واپس آیا تو اس نے ایک بیوقوف کے منہ سے یہ بات نکلوا دی کہ ہم دو سال کے اندر اندر خلافت کو ختم کر دیں گے۔میں نے اس کے بیان کو شائع کر دیا۔اس پر کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ یونہی ایک بے وقوف کی بات کو بڑھا دیا گیا ہے۔اس سے اسے شہرت اور اہمیت حاصل ہو جائے گی لیکن اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ یہ لوگ ننگے ہو گئے۔چنانچہ ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ آپ نے اپنی بیالیس سالہ خلافت میں بڑے بڑے عظیم الشان کارنامے کئے ہیں لیکن اب جو آپ نے کام کیا ہے اور جماعت کو وقت پر فتنے سے آگاہ کر دیا ہے اور اسے بیدار کر دیا ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے بڑا آپ کا اور کوئی کارنامہ نہیں۔آج ہمیں سب