سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 149

۱۴۹ گا تو وہاں کا مبلغ بن جائے گا۔اسی طرح ایسٹ افریقہ سے امری عبیدی آئے تھے۔وہ عیسائیوں میں سے احمدی ہوئے ہیں۔حبشیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کم عقل ہوتے ہیں لیکن وہ شخص اتناذہین ہے کہ اس نے اس بات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔کراچی میں پچھلے دنوں نوجوانوں کی ایک انجمن کی کانفرنس ہوئی تھی۔اس میں انہوں نے ہمیں نہیں بلایا تھا لیکن ہم نے خود بعض لڑکے وہاں بھیج دیئے تھے۔ان میں سے ایک امری عبیدی بھی تھے۔بعد میں وہاں سے رپورٹ آئی کہ وہ ہر بات میں امری عبیدی سے مشورہ لیتے تھے اور اس کو آگے کرتے تھے۔گویا وہ تو ہمیں بلاتے بھی نہیں تھے لیکن جب ہمارے نوجوان وہاں گئے تو وہ ہر بات میں ہمارے اس نوجوان سے مشورہ کرتے تھے اور اسے آگے کرتے تھے۔اب وہ واپس پہنچ گئے ہیں اور ان کی طرف سے چٹھی آئی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے تبلیغ کا کام شروع کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ وہ دن جلد لائے ، جب یہ ساری قوم احمد بیت کو قبول کر لے تو یہ جو کچھ ہو رہا ہے محض نظام کی برکت کی وجہ سے ہو رہا ہے اور اس نظام کا ہی دوسرا نام خلافت ہے۔خلافت کوئی علیحدہ چیز نہیں بلکہ خلافت نام ہے نظام کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب الوصیت میں فرماتے ہیں کہ ”سواے عزیز و! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے۔تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے، جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا۔“ اب دیکھو قدرت ثانیہ کسی انجمن کا نام نہیں۔قدرت ثانیہ خلافت اور نظام کا نام ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں تو کچھ مدت تک تمہارے اندر رہ سکتا ہوں مگر یہ قدرت ثانیہ