سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 148
۱۴۸ اگر آپ مخالفوں کے قول کے مطابق عیسائیت کے ایجنٹ تھے تو عیسائیوں کو مسلمان بنانے کے کیا معنی۔اگر آپ عیسائیوں کے ایجنٹ ہوتے تو آپ مسلمانوں کو عیسائی بناتے نہ کہ عیسائیوں کو مسلمان۔کیونکہ کوئی شخص اپنے دشمن کی تائید کے لئے تیار نہیں ہوتا۔جو شخص عیسائیت کی جڑوں پر تبر رکھتا ہے عیسائی لوگ اس کی مدد کیوں کریں گے؟ حضرت مسیح ناصری سے بھی بالکل اسی طرح کا واقعہ ہوا تھا۔آپ پر یہودیوں نے الزام لگایا کہ انہیں بعل بت سکھاتا ہے۔اس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میں تو بعل بت کے خلاف تعلیم دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ایک خدا کی پرستش کرو۔پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ بعد مجھے سکھاتا ہے اور میری تائید کرتا ہے۔اب دیکھو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کتنا بڑ انشان ہے کہ آپ کی زندگی میں تو مخالف کہتے رہے کہ آپ عیسائیت کے ایجنٹ ہیں لیکن آپ کی وفات کے بعد آپ کے ماننے والی غریب جماعت کو اس نے یہ توفیق دی کہ وہ عیسائیت کو شکست دے۔اس نے چندے دیئے اور تبلیغ کا جال پھیلا دیا۔اگر وہ چندے نہ دیتے اور ہمارے مبلغ دنیا کے مختلف ممالک میں نہ جاتے ، تو یہ لوگ جو احمدیت میں داخل ہوتے ہیں، کہاں سے آتے ؟ اور عیسائیت کا ناطقہ کیسے بند ہوتا ؟ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے انہی چندوں کی وجہ سے یہ حالت ہوگئی کہ اب عیسائیوں کو ایک ملک کے متعلق یہ کہنا پڑا کہ یہ خوشکن امید کہ یہ ملک عیسائی ہو جائے گا، پوری نہیں ہو سکتی۔اب غالباً اسلام جیتے گا اور عیسائیت شکست کھائے گی۔کیونکہ اب عیسائیت کی جگہ اس ملک میں اسلام ترقی کر رہا ہے۔احمدی جماعت کی طرف سے سکول جاری ہو رہے ہیں۔کالج قائم کئے جارہے ہیں۔مساجد تعمیر ہو رہی ہیں۔چنانچہ گولڈ کوسٹ کے علاقہ میں کماسی مقام پر ہمارا سیکنڈری سکول قائم ہے۔کہتے تو اسے کالج ہیں۔لیکن وہاں صرف ایف۔اے تک تعلیم دی جاتی ہے۔کئی کئی میل سے لوگ اپنے بچے اس کا لج میں بھیجتے ہیں۔ان لوگوں کو دین پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ پچھلے سال ایک لڑکا یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آیا۔اس کے متعلق وہاں کے مبلغ نے لکھا کہ اس کی والدہ میرے پاس آئی اور اس نے مجھے دو سو پونڈ کی رقم دی اور کہا میرے اس بچے کو ربوہ بھیجنے کا انتظام کریں تا کہ یہ وہاں تعلیم حاصل کرے۔مبلغ نے کہا بی بی تو بیوہ عورت ہے اتنا بوجھ کیوں اٹھاتی ہے۔یہ رقم تیرے کام آئے گی۔شاید تو خیال کرتی ہو کہ ربوہ میں تیرا لڑکا بی۔اے یا ایم۔اے ہو جائے گا۔وہاں تو لوگ دبینیات پڑھاتے ہیں۔اس پر وہ عورت کہنے لگی، میں تو اپنے لڑکے کو ربوہ بھیجتی ہی اس لئے ہوں کہ وہ وہاں جا کر دین کی تعلیم حاصل کرے۔آپ اسے وہاں بھیجئے، خرچ میں دوں گی۔چنانچہ وہ لڑکا یہاں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد واپس اپنے ملک جائے